تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 170 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 170

منعقد کیا جائے اور تمام مذاہب کے وکلاء کو شرکت کے لئے دعوت دی جائے اور چند ایسے سوالات مقرر کئے جائیں جو ہر مذہب کی جان ہوں اور تمام مذاہب کے نمائندے اِن سوالات کے جواب میں اپنے اپنے مذہب کے مطابق مضامین پڑھیں۔مگر ان مضامین میں کسی دوسرے مذہب پر حملہ نہ ہو بلکہ صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کی جائیں تا کہ طالبانِ حق کو ٹھنڈے دل سے فیصلہ کرنے کا موقعہ ملے اس تحریک کے بانی مبانی بعض برہمو سماج سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے چنانچہ یہ تجویز پختہ ہوگئی اور اس کے لئے منتظمین کی ایک سب کمیٹی مقرر کی گئی اور تقریروں کے لئے جو سوالات تجویز کئے گئے وہ یہ تھے:- ا۔انسان کی جسمانی ، اخلاقی اور روحانی حالتیں۔۲- انسان کی دنیوی زندگی کے بعد کی حالت۔۳- دنیا میں انسان کی ہستی کی غرض کیا ہے اور وہ غرض کس طرح پوری ہو سکتی ہے۔۴- کرم یعنی اعمال کا اثر دنیا اور عاقبت میں کیا ہوتا ہے۔۵- علم یعنی گیان اور معرفت کے ذرائع کیا کیا ہیں۔اس کے بعد ہر مذہب وملت کے سر بر آوردہ بزرگوں کو دعوت دی گئی کہ وہ ان سوالات کے جواب میں مضامین لکھیں یا جلسہ کے وقت زبانی تقریر فرمائیں اور ہر مذہب کی طرف سے دو دو تین تین آدمی منتخب کئے گئے۔چنانچہ اسلام کی طرف سے یہ تین اصحاب وکیل یعنی نمائندے قرار پائے۔۱ - حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود ۲ - مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی۔۳- مولوی ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری۔اسی طرح عیسائیوں، آریوں، سناتن دھرمیوں، برہمو سماج والوں سکھوں، تھیا صوفیکل سوسائٹی والوں ، فری تھنکروں وغیرہ کی طرف سے بھی بعض نمائندے مقرر ہوئے اور سب کو یہ ہدایت دی گئی کہ ان سوالات کے جواب میں صرف مذہب کی تعلیم بیان کریں اور دوسرے مذاہب 170