تبلیغِ ہدایت — Page 162
مان لیا ؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون ہوگا کہ حضرت مرزا صاحب اُن کی غلامی کو اپنے لئے جائے فخر سمجھتے ہیں اور جس نے کہا اور سچ کہا کہ اگر عیسی اور موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری غلامی کا جوا اپنی گردن پر رکھنا پڑتا۔مگر بایں ہمہ وہ آیا اور خدا کی عجیب در عجیب قدرت نمائیاں دکھا کر گذر گیا مگر کور باطنوں نے اسے نہ مانا۔بلکہ اب تک بھی کہ ساڑھے تیرہ سو سال گذر چکے ہیں اس کے منکروں کی تعداد اس کے ماننے والوں سے بہت زیادہ ہے پس جہالت کے اعتراض مت کرو اور قرآن کھول کر دیکھو کہ خدا فرماتا ہے يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ (سورۃ یسین (۲۴) یعنی (افسوس ) لوگوں پر کہ کوئی بھی تو رسول دنیا میں ایسا نہیں آیا کہ لوگوں نے اس کا انکار کر کے اس پر ہنسی نہ اڑائی ہو“۔سو ہم خوش ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کے مخالفوں نے بھی مخالفین انبیاء کی یہ سنت اپنے ہاتھوں سے پوری کر دی۔پس سو چو تو یہ مخالفت بھی حضرت مرزا صاحب کی صداقت کی ایک دلیل ہے۔دیگر متفرق مذاہب سے مقابلہ مذکورہ بالا پانچ مذاہب کو جس رنگ میں حضرت مرزا صاحب نے مقابلہ کر کے زیر کیا اور اُن کے مقابل پر اسلام کو غالب کر دکھایا اس کی مختصر سی کیفیت ہم نے اوپر بیان کر دی ہے اور تفصیلی مطالعہ کے لئے کتب کے حوالے دے دیئے ہیں ان مذاہب کے علاوہ دنیا میں ایک بدھ مذہب بھی پایا جاتا ہے۔ہر چند کہ اب یہ مذہب عملاً ایک نیم مردہ مذہب ہے یعنی اس کے متبعین میں جو شائد تعداد میں تو سارے مذاہب والوں سے بڑھے ہوئے ہیں زندگی کی کوئی خاص حرکت نہیں پائی جاتی اور اس مذہب میں تبلیغ کا سلسلہ بھی عملاً بند ہے مگر پھر بھی اسے نظر انداز نہیں کیا گیا۔دیکھو رسائل ریویو آف ریلیجنز ) پھر یہودیت ہے اس کی مذہبی حالت بھی جو ہے وہ ظاہر ہے مگر اس کا بھی ضمناً متعدد جگہ حضرت مرزا صاحب کی تصنیفات میں ذکر آ گیا ہے پھر پارسی مذہب ہے جس کا اب صرف اتنا ہی کام ہے کہ وہ ایک قومی مذہب کے طور پر چند افراد میں قائم ہے اس کی بھی تھوڑی بہت خدمت رساله ریویو آف ریلیجنز میں ہو چکی ہے پھر بت پرستی ہے اس کا بھی متفرق طور پر حضرت 162