تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 7 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 7

چنانچہ مشاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ وعدہ کے موافق تمام صدیوں کے سر پر خصوصاً اور باقی اوقات میں عموماً ایسے لوگ ظاہر ہوتے رہے ہیں جن کے ذریعہ سے قرآن شریف کی اصل تعلیم اور اسلام کی حقیقی روح کا حسب ضرورت زمانہ انکشاف ہوتا رہا ہے اور جو خدا کے زندہ کلام کی مدد سے لوگوں کے اندر علمی اور روحانی اصلاح کرتے رہے ہیں۔چنانچہ حضرت شیخ عبدالقادر صاحب جیلانی ، حضرت شیخ احمد صاحب سرہندی مجدد الف ثانی، حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی۔حضرت سید احمد صاحب بریلوی و غیر ہم رحمتہ اللہ علیہم اجمعین اسی مقدس جماعت میں سے ہیں۔ان لوگوں نے اپنے اپنے وقت میں خدا سے ہدایت حاصل کر کے دنیا کی اصلاح کی اور اپنے اپنے زمانہ کی وہ غلطیاں صاف کیں جن کی اصلاح کا وقت آچکا تھا اور جن کے متعلق خدا کا منشا تھا کہ وہ صاف کر دی جاویں۔باو جود تعلیم مکمل ہونے کے مصلحوں کی ضرورت ہے اگر اس جگہ کسی کو یہ وہم گذرے کہ جب قرآن شریف کی تعلیم ہر طرح کامل و مکمل ہے تو پھر اس کے ہوتے ہوئے کسی مصلح کی کیا ضرورت ہے ہر شخص جو اس کی تعلیم پر کار بند ہو وہ اپنی اصلاح ہونے کے مسلمان۔۔خود کرسکتا ہے تو یہ ایک سراسر غلط خیال ہوگا کیونکہ :- اوّل تو ہمارا مشاہدہ اس کو باطل قرار دیتا ہے۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود مکمل تعلیم موجود۔۔۔۔۔روز بروز گرتے ہی چلے جاتے ہیں اور باوجود اس احساس کے کہ ہم گر رہے ہیں وہ اُٹھ نہیں سکتے اور گذشتہ زمانوں پر بھی جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو یہی پاتے ہیں کہ جب سے دنیا کی تاریخ محفوظ ہے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی قوم مذہبا گر کر پھر خود بخود پورے طور پر اُٹھی ہو یا اُٹھ سکی ہو۔دوسرے خدا کی قدیم سنت اس خیال کو غلط ثابت کر رہی ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ قدیم سے خدا کی یہی سنت رہی ہے کہ ہر ظلمت کے زمانہ میں وہ کوئی مصلح مبعوث فرما یا کرتا ہے۔دیکھ لو حضرت موسیٰ کی امت کے واسطے تو رات کی تعلیم کامل تھی لیکن باوجود اس کے اور پھر باوجود اس 7