تبلیغِ ہدایت — Page 148
ہوتا ہے کیونکہ ان کے اندر بھی خدائی قدرت نمائی کی بعض خاص تجلیاں ظاہر ہوئی ہیں۔سو جاننا چاہئے کہ قادیان کی آریہ سماج ایک پرانی سماج ہے۔اس سماج کے دو ممبر لالہ شرمیت اور لالہ ملا وامل ابتدائے زمانہ سے حضرت مرزا صاحب کے پاس آتے جاتے تھے اور مذہبی تبادلہ خیالات ہوتا رہتا تھا۔ان دونوں نے حضرت مرزا صاحب کے بیسیوں نشانات پورے ہوتے دیکھے۔مگر شقاوت ازلی نے ہدایت نصیب نہ ہونے دی۔(دیکھو تبلیغ رسالت قادیان کے آریہ اور ہم وغیرہ) جب آپ نے ۱۵ - ۱۸۸۴ء میں یہ اشتہار دیا کہ جو شخص کوئی نشان دیکھنا چاہے وہ ایک سال تک میرے پاس آکر رہے تو قادیان کے بعض آریہ اور سناتن دھرمیوں نے بھی اس اشتہار پر آپ سے نشان دیکھنے کی تحریری خواہش ظاہر کی۔چنانچہ اس امر پر طرفین کے درمیان ایک با قاعدہ تحریر لکھی گئی اور جانبین سے گواہ بھی مقرر ہو گئے۔اُن دنوں میں حضرت مرزا صاحب نے اپنے بعض قریبی رشتہ داروں مرز انظام الدین صاحب و مرز ا امام الدین صاحب کی خواہش پر ایک پیشگوئی کی تھی کہ اللہ نے مجھے خبر دی ہے کہ اکتیس ماہ کے اندر اندر ان کے گھر میں سے کوئی شخص مر جائے گا جس کی موت کی وجہ سے انہیں سخت صدمہ پہنچے گا اور اس پیشگوئی کا سبب یہ تھا کہ مرزا امام الدین و مرز انظام الدین صاحبان وغیرہ جو حضرت مرزا صاحب کے چا زاد بھائی تھے پرلے درجہ کے بے دین تھے اور الہام اور کلام الہی پر تمسخر اڑاتے تھے اور اپنے لئے کسی قہری نشان کے طالب رہتے تھے۔خیر خلاصہ یہ ہے کہ چند مقامی ہندوؤں نے ایسی تحریر لکھ کر حضرت مرزا صاحب کو دیدی کہ ہمیں بھی حسب اشتہار دعوت ایک سال کے اندر کوئی نشان دکھایا جائے۔(دیکھو تبلیغ رسالت جلد اوّل) آب قدرت حق کا تماشا دیکھو کہ ابھی یہ سال بھی نہ گذرا تھا اور اس ماہ والی پیشگوئی کی میعاد میں بھی ابھی چند دن باقی تھے کہ مخالفوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ بس انتیس ماہ گویا گذر گئے ہیں صرف چند دن باقی ہیں مگر کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔اور سب لوگ زندہ سلامت موجود ہیں۔جب یہ لوگ ہنسی ٹھٹھا کر چکے تو اچانک خدائی تجلی کا ظہور ہوا اور وہ اس طرح پر کہ جب ۳۱ ماہی میعاد 148