تبلیغِ ہدایت — Page 136
الگ الگ حلقوں میں کام کرتے ہیں۔(اس مسئلہ کی مفصل بحث کے لئے خاکسار کی تصنیف ”ہمارا خدا ملاحظہ کریں) اور الہام الہبی کے صرف وید کے زمانہ تک محدود ہونے اور پھر وید کے بعد ہمیشہ کے لئے منقطع ہو جانے کے متعلق آپ نے لکھا کہ یہ ایک ایسا خطرناک عقیدہ ہے جو ایمان کے پودے کو جلا کر خاک کر دیتا ہے۔ایمان کا درخت ایسا ہے کہ جب تک اُسے خدائی نشانات اور خدائی الہام کے ذریعہ تازہ بتازہ پانی نہ ملتا رہے وہ خشک ہوجاتا ہے اور محض قصے اس کو ہرگز شاداب نہیں رکھ سکتے۔جس مذہب نے الہام کا دروازہ بند کیا وہ مر گیا۔کیونکہ اس کے ہاتھ میں سوائے خشک قصوں کے اور کچھ نہیں۔پھر آپ نے لکھا کہ صرف وید کو الہامی ماننا گویا خدا کی صفت رب العالمین کا انکار کرنا ہے۔خدا صرف آریہ ورت کا خدا نہیں بلکہ ساری دنیا کا خدا ہے اور ساری اُمتوں میں اپنا الہام کرتا اور اپنے رسول بھیجتا رہا ہے اور بالآخر جب تکمیل ہدایت کا زمانہ آیا تو اُسنے اپنی کامل شریعت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل فرمائی اور قرآن کو ساری اُمتوں اور سارے زمانوں کے لئے قرار دیا۔کیونکہ آب دنیا ایسی حالت اور ایسے زمانہ میں پہنچ گئی تھی کہ ایک مکمل شریعت جو سب امتوں کے لئے اور سب زمانوں کے لئے مناسب ہو نازل کی جاسکتی تھی۔مگر اس کے بعد بھی خدا نے الہام کا دروازہ بند نہیں کیا بلکہ وہ اب بھی کھلا ہے اور ہمیشہ کھلا رہے گا اور محدودکرم کے غیر محدود پھل نہ ملنے کے متعلق آپ نے فرمایا کہ بیشک انسان کے کرم یعنی اعمال محدود ہیں مگر وفادار پرستار کی نیت تو محدود نہیں ہے پس کوئی وجہ نہیں کہ اس کا اجر محدود ہو اور نیز کرم کا محدود ہونا انسان کی اپنی مرضی سے نہیں بلکہ خدا کا فعل ہے۔کیونکہ اگر موت واقع نہ ہو جو خدا کا فعل ہے تو ہر نیک انسان یہی عزم رکھتا ہے کہ ہمیشہ نیک اعمال بجالاتا چلا جائے گا اور سچی توبہ پر بھی خدا کا گناہ معاف نہ کرنا ایک ایسا فتیح فعل ہے کہ فطرت انسانی اسے دُور سے ہی دھکے دیتی ہے جو بات انسان میں بھی قابل تعریف سمجھی جاتی ہے وہ آریہ لوگ خدا کو دینا پسند نہیں کرتے۔اور نیوگ ایسا گندہ اور بے حیائی کا فعل ہے کہ ہرگز کوئی غیرتمند انسان اسے برداشت نہیں کر سکتا۔غرض آپ نے آریوں کے سب معتقدات پر نہایت سیر کن بخشیں کیں اور نقل و عقل سے ان کا کامل کھنڈن کیا اور نیز آپ نے روزِ 136