تبلیغِ ہدایت — Page 135
اب آگے چلئیے۔اس جنگ وجدال کے بعد آریہ کیمپ میں ایک عرصہ تک خاموشی رہی مگر کچھ عرصہ کے بعد دو نہایت نامور شخص میدان مقابلہ میں آئے یعنی منشی اندر من مراد آبادی اور پنڈت لیکھرام پشاوری ثم لاہوری۔مؤخر الذکر شخص آریہ سماج میں وہ ممتاز درجہ رکھتا تھا کہ سوامی دیانند کے بعد گویا ساری قوم میں یہی شخص بزرگ سمجھا جاتا تھا بلکہ بعض لحاظ سے سوامی جی پر بھی اُسے فوقیت دی جاتی تھی۔یہ دونوں شخص اسلام سے سخت عداوت رکھتے تھے اور تیز کلامی و بدزبانی میں بھی اپنی نظیر آپ ہی تھے۔حضرت مسیح موعود کے ساتھ ان کے وار ہوتے رہے اور پھر جس رنگ میں اس مقابلہ کا خاتمہ ہوا وہ بھی اسلامی تاریخ اور پھر خصوصاً سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں ایک خاص شان رکھتا ہے۔مگر چونکہ وہ روحانی مقابلہ سے متعلق ہے اس لئے اس کا بیان بھی اُسی ذیل میں درج ہوگا۔اس کے بعد ۱۸۸۶ء میں ہوشیار پور کے مقام پر حضرت مرزا صاحب کا ایک جوشیلے آریہ ماسٹر مرلی دھر کے ساتھ مباحثہ ہوا جس میں اسے خطر ناک شکست ہوئی۔(دیکھوئرمہ چشم آریہ) اس مباحثہ کی کیفیت کے لئے آپ نے ایک کتاب تحریر فرمائی جس کا نام سرمہ چشم آریہ رکھا۔یہ اس پایہ کی کتاب ہے کہ دشمن سوائے اس کے کہ اپنے ہاتھ کاٹے ہرگز اس کے جواب کی طاقت نہیں رکھتا۔اس کے بعد آپ نے ایک اور زبردست کتاب شحنه حق تصنیف فرما کر اتمام حجت کیا اور آریوں کے مذہبی اصولوں کی دھجیاں اڑا دیں۔سرمہ چشم آریہ میں قدامت رُوح و مادہ اور تناسخ وغیرہ کے مسائل پر وہ مدلل اور مسکت بخشیں کی گئی ہیں کہ لا جواب ہونے میں اپنی نظیر نہیں رکھتیں۔آپ نے ثابت کیا کہ قدامت روح و مادہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو خدائی صفات پر ایک خطرناک دھبہ لگاتا ہے بلکہ اس کو مان کر خدا کی بعض ان صفات کو بھی چھوڑنا پڑتا ہے جن کو مجملا خود آریہ صاحبان بھی تسلیم کرتے ہیں۔مثلاً صفت خالقیت اور صفت مالکیت وغیرہ اور آپ نے ثابت کیا کہ قدامت رُوح و مادہ اور تناسخ کا مسئلہ جھوٹے مشاہدہ اور قیاس مع الفارق کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے یعنی خدا کو بھی اُسی قانون سے ناپا گیا ہے جو مخلوق پر چلتا ہے اور نیز یہ کہ قانون نیچر اور قانون شریعت میں تمیز نہیں کی گئی اور دونوں کو ایک سمجھ لیا گیا ہے حالانکہ یہ دونوں الگ الگ قانون ہیں جو 135