تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 127 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 127

مقابلہ کے لئے بھی کوئی نہ نکلا۔(دیکھو تبلیغ رسالت) مسٹر والٹر آنجہانی جو ایک امریکن پادری تھا اور جس نے سلسلہ احمدیہ کی ایک مختصر سی تاریخ انگریزی زبان میں لکھی ہے اس چیلنج کا ذکر کر کے لکھتا ہے کہ دراصل مسیحی لوگ کسی کے متعلق بددُعا کرنے اور اس کی ہلاکت کے خواہشمند ہونے کے مقام سے بالاتر ہیں کیونکہ وہ مذہباً کسی کی بھی تباہی اور ذلت نہیں چاہتے۔اس لئے کوئی مسیحی مرزا صاحب کے مقابلہ پر نہیں آیا۔خوب! بہت خوب !! مگر حل طلب امر یہ رہ جاتا ہے کہ آتھم کی میعاد پر شہروں میں جلوس نکلوانے اور سوانگ بھر نے اور پھر اس کی موت پر غضب میں آکر اقدام قتل کے سراسر جھوٹے اور بناوٹی مقد مے کھڑے کرنے اور حضرت مرزا صاحب کو ماخوذ کرا کے پھانسی دلوانے یا عمر بھر کے لئے کالے پانی بھجوانے وغیرہ کے لئے تو اے مسیحیت کے حلیم بڑو ! تم تیار ہو اور تمہارا مذہب تمہارے ہاتھ کو نہیں روکتا۔مگر اسلام اور مسیحیت میں سچا سچا فیصلہ کرانے کے لئے خدا کے حضور دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہوئے تمہیں اپنا مذ ہب یاد آجاتا ہے !!! تم نے اسلام اور مقدس بانی اسلام کے خلاف تقریر وتحریر میں زہر اُگلنے اور گالیوں سے اپنی کتابوں کے ورق کے ورق سیاہ کر دینے کو تو جائز کر رکھا ہے اور کوئی موقعہ اسلام کو نقصان پہنچانے کا ہاتھ سے نہیں جانے دیتے مگر جہاں دینی تنازعات کا مقدمہ خدا کی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے وہاں تمہیں ایک گال پر طمانچہ کھا کر مارنے والے کی طرف دوسرا گال پھیر دینے کے مسئلہ پر عمل کرنے کی سوجھتی ہے انہی باتوں کی وجہ سے تو حدیث میں تمہارا وہ نام رکھا گیا جو رکھا گیا۔پھر یہ تو بتاؤ کہ بھلا مباہلہ میں تو مسیحیت کی محبت کی تعلیم مانع ہوئی لیکن سامنے آ کر نشان دیکھنے اور دکھانے اور مریضوں کی شفایابی کے لئے بالمقابل دُعا کرنے میں کونسا امر مانع تھا؟ خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔مطلب یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے مسیحیوں کو ہر طرح مباہلہ کے لئے بلایا، لیکن کسی کو سامنے آنے کی جرات نہ ہوئی مگر خدا کو اس رنگ میں بھی اسلام کا غلبہ اور مسیحیت کی شکست دکھانی منظور تھی۔چنانچہ انہی دنوں امریکہ میں ایک شخص ڈوئی کھڑا ہوا جو اصل میں سکاٹ لینڈ کا باشندہ تھا اس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑی جماعت اپنے گرد جمع کر لی 127