تبلیغِ ہدایت — Page 120
اسلام اور رد عقائد مسیحیت کے متعلق ایسے ایسے زبر دست اور لا جواب مضامین لکھے کہ مسیحیوں کے دانت کھٹے کر دیئے۔کئی غیر متعصب عیسائیوں نے ان مضامین کے بے نظیر ہونے کا اعتراف کیا آپ نے عقل اور نقل سے یہ ثابت کر دیا کہ تثلیث کا عقیدہ خود بائیبل کے مخالف ہونے کے علاوہ اور پھر علاوہ اس بات کے کہ فطرت انسانی اسے دُور سے ہی دھکے دیتی ہے عقل کے بھی صریح مخالف ہے۔تین خداؤں کا ہونا دو حالتوں سے خالی نہیں۔یا تو وہ تینوں اپنی اپنی جگہ کامل ہیں یعنی تمام خدائی صفات کو کامل طور پر اپنے اندر رکھتے ہیں اور یا وہ کامل نہیں بلکہ تینوں مل کر کامل بنتے ہیں۔صورت اوّل میں تین خداؤں کا ہونا ایک عبث فعل ہے۔کیونکہ جب ان تینوں میں سے ہر ایک کامل ہے تو پھر ہر اک الگ الگ اس کا رخانہ کو چلا سکتا ہے پس کوئی وجہ نہیں کہ جہاں ایک خدا کام دے سکے وہاں تین خدا کام کریں۔اور اگر وہ الگ الگ کامل نہیں اور فرداً فرداً اس کا رخانہ کو چلانے کے قابل نہیں تو اس صورت میں وہ سب ناقص ہیں اور خدا نہیں ہو سکتے۔اس قسم کے دلائل کے ساتھ آپ نے عقلاً تثلیث کے عقیدہ کا بطلان ثابت کیا اور یہ بھی ثابت کیا کہ انجیل جس پر مسیحیوں کا سارا دارو مدار ہے ہرگز تثلیث کے عقیدہ کی تائید نہیں کرتی بلکہ اس کی اصل تعلیم تو حید پر قائم تھی۔اسی طرح الوہیت مسیح کے عقیدہ پر آپ نے وہ ضر میں لگائیں کہ خدا ثابت کر نا تو درکنار عیسائیوں کو مسیح ناصری کا ایک کامل بشر ثابت کرنا بھی مشکل ہو گیا۔پھر کفارہ پر وہ مضامین لکھے کہ خود بعض مسیحیوں کو اقرار کرنا پڑا کہ وہ زبر دست مضامین لا جواب ہیں۔( مثلاً ملاحظہ ہو روس کے مشہور ومعروف کونٹ ٹالسٹائے کا ریویو اسلامی اصول کی فلاسفی پر جس کا ذکر آگے آتا ہے۔) آپ نے ثابت کیا کہ کفارہ کا مسئلہ فطرت کے خلاف ہے۔زید کے خون سے بکر کے گناہوں کی معافی ایک ایسا خیال ہے جسے عقل دُور سے ہی دھکے دیتی ہے۔آپ نے ثابت کیا کہ گناہ صرف ایمان اور یقین سے دُور ہو سکتا ہے اُسے کسی خونی قربانی کی ضرورت نہیں اور نقلی طریق سے بھی آپ نے اس خیال کا بطلان ثابت کیا۔اسی طرح رحم بلا مبادلہ کے فرضی عقیدہ کی بھی دھجیاں اُڑا دیں۔غرض آپ نے مسیحیت کے متعلق عقل اور نقل دونوں کی رو سے نہایت مدلل اور سیر کن بخشیں کی ہیں اور 120