تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 106 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 106

پنجم : مسئلہ تقدیر خیر وشر کے متعلق اختلافات۔ششم: خلافت راشدہ کے متعلق اختلافات۔هفتم قرآن وحدیث کے مرتبہ کے متعلق اختلافات۔ہشتم: اہل حدیث واہل فقہ کے متعلق اختلافات۔نہم : مسائل علمی کے متعلق اختلافات۔وہم : مسائل فقہی کے متعلق اختلافات۔ی وہ دن اقسم کے اختلافات ہیں جنہوں نے اس زمانہ میں اسلامی دنیا میں ایک اندھیر مچا رکھا تھا اور علاوہ آپس کی تو تو میں میں کے ان کی وجہ سے مسلمانوں میں ایسی ایسی باتیں پیدا ہوگئی تھیں جنہوں نے اسلام کو دنیا میں بدنام کر دیا تھا اور دشمن کو اسلام پر حملہ کرنے کا ایک بہت بڑا موقعہ ہاتھ آ گیا تھا اور فہمیدہ مسلمان اس بات سے تنگ آکر اور کوئی مخلصی کی راہ نہ دیکھ کر اسلام کی حالت پرخون کے آنسو بہاتے تھے اور بعض کمزور ایمان تو اسلام کو خیر باد کہہ رہے تھے۔ایسے طوفانِ عظیم کے وقت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق حضرت مرزا صاحب کو حکم و عدل بنا کر مبعوث فرمایا۔جنہوں نے آتے ہی اپنا سفید جھنڈا بلند کر دیا اور پکار کر کہا۔ادھر آؤ کہ خدا نے مجھے تمہارے اختلافات میں حکم بنا کر بھیجا ہے۔آؤ کہ میں تمہارے اختلافات میں سچا سچا فیصلہ کروں گا۔اس کے بعد آپ اس روحانی عدالت کی کرسی پر جلوہ افروز ہو گئے اور قضاء کا کام شروع ہوا۔سب سے پہلا اختلاف یہ تھا کہ عام طور پر مسلمانوں میں یہ عقیدہ رائج ہو چکا تھا کہ خدا قدیم زمانہ میں تو بے شک اپنے بندوں کے ساتھ کلام کرتا تھا، لیکن اب نہیں کرتا۔گویا وہ سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں۔آپ نے فیصلہ فرمایا اور دلائل عقلیہ و نقلیہ سے قطعی طور پر ثابت کر دیا کہ خدا کے متعلق ایسا گمان کرنا سخت الحاد ہے کہ اس کی قوت گویائی اب باطل ہوگئی ہے آپ نے بتایا کہ اگر خدا بولتا نہیں تو اسلام بھی ایک مُردہ مذہب ہے اور اس کا دارومدار بھی دوسرے مذاہب کی طرح محض قصوں پر رہ جاتا ہے جو ایک عاشق زار اور حق کے متلاشی کی پیاس کو ہرگز بجھا نہیں سکتے اور 106