تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 101 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 101

اور اسے قتل کر دے گا اور اس کے زمانہ میں آفتاب مغرب کی طرف سے طلوع کرے گا اور ایمان اگر دنیا سے ایسا مفقود بھی ہو چکا ہوگا کہ گویا ثریا ستارہ پر چلا گیا ہے تو پھر بھی ایک مرد کامل جو فارسی الاصل ہو گا اُسے دوبارہ دنیا میں اُتار لائے گا (یعنی یہی مسیح موعود کھوئے ہوئے ایمان کو دنیا میں پھر دوبارہ قائم کرے گا ) اور قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ ہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ وہ اسے تمام دوسرے دینوں پر غالب کر دکھائے ( اس آیت کو مفسرین نے مسیح موعود کے زمانہ پر لگایا ہے اور صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ یہ وعدہ مسیح موعود کے زمانہ میں پورا ہوگا“۔مسیح موعود کی علامتوں میں سے یہ دسویں علامت ہے اور درحقیقت یہی تمام علامتوں کی جان ہے کیونکہ اس میں مسیح موعود کا کام بتایا گیا ہے اور ایک روحانی مصلح کی سب سے بڑی شناخت اس کے کام کے ذریعہ سے ہی ہوا کرتی ہے اسی لئے ہم نے اس علامت کی بحث کو ایک الگ اور مستقل باب میں بیان کرنا مناسب سمجھا ہے در حقیقت اگر یہ ثابت ہو جائے کہ حضرت مرزا صاحب نے وہ کام کر دکھایا ہے اور سنتِ رسل کے مطابق اس کی تخم ریزی کر دی ہے جو مسیح موعود کے ہاتھ پر سر انجام پانا مقدر تھاتو پھر کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہے گی اور اس کے بعد کسی اور فرضی مسیح و مہدی کا انتظار بے سود ہوگا۔کیونکہ اگر بفرض محال یہ مان بھی لیا جاوے کہ حضرت مرزا صاحب موعود مسیح و مہدی نہیں ہیں تو پھر بھی اگر آپ کے ذریعہ مسیح موعود اور مہدی معہود کا مقررہ کام واقعی پورا ہو گیا ہے تو اس اصلی ( گو ہمارے نزدیک فرضی) مسیح ومہدی کا مبعوث کیا جانا ایک محض لغو فعل ہو گا جو خدا جیسی حکیم ذات سے ہرگز متوقع نہیں ہوسکتا۔مگر اس بحث کو شروع کرنے سے پہلے بعض تمہیدی باتوں کا بیان کر دینا ضروری ہے جو درج ذیل کی جاتی ہیں۔سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کسر صلیب سے کیا مراد ہے؟ سو ہر عقلمند سوچ سکتا ہے کہ کسیر صلیب سے یہ تو ہرگز مراد نہیں ہو سکتی کہ مسیح موعود ظاہری صلیب کی لکڑی کو توڑتا پھرے گا اور گویا اس کی بعثت ہی اس غرض سے ہوگی کہ ساری عمر صلیب کی لکڑی کو توڑتا پھرے کیونکہ اول تو یہ بات ایک مرسل یزدانی کی شان سے بعید ہے کہ وہ محض ایک لکڑی کو توڑنے کے لئے مبعوث کیا جائے 101