تبلیغِ ہدایت — Page 102
دوسرے ایسا فعل کوئی حقیقی فائدہ بھی نہیں دے سکتا۔کیا صلیب کی لکڑی کے توڑے جانے سے مسیح پرستی مٹ سکتی ہے؟ یا اس سے ساری دنیا کی لکڑی ختم ہو جائے گی اور سیح لوگ آئندہ صلیب نہیں بنا سکیں گے؟ خوب یا درکھو کہ جب تک مسیحیت کے باطل خیالات کا زور موجود ہے صلیب قائم ہے اور محض اس کی لکڑی کو توڑ کر خوش ہونا ایک طفلانہ فعل ہے جو سوائے اس کے کہ شماتت اعداء کا موجب ہو کوئی فائدہ نہیں بخش سکتا۔صلیب صرف اسی صورت میں ٹوٹ سکتی ہے کہ مسیحی لوگوں کے دلوں کو فتح کر کے صلیبی مذہب کا زور توڑ دیا جاوے اور براہین قویہ سے اس کا بطلان ثابت کر دیا جائے اس صورت میں بیشک صلیب کی ظاہری لکڑی بھی ٹوٹ جاوے گی کیونکہ جب دنیا صلیبی عقائد سے بیزار ہوگی تو لازماً صلیب خود بخود توڑ کر پھینک دی جائے گی۔اور یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ یہ خیال کرنا کہ کسی زمانہ میں عیسائی مذہب دنیا سے بالکل مٹ جائے گا ایک غلط خیال ہے کیونکہ قرآن شریف کی نص صریح وَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ - (سورۃ مائده ع۳) یعنی ” ہم نے عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان قیامت تک دشمنی بھڑ کا رکھی ہے ) سے ثابت ہے کہ عیسائی مذہب قیامت تک رہے گا۔پس کسر صلیب کے یہ معنے بھی نہیں ہو سکتے کہ صلیبی مذہب بالکل ہی مٹ جائے گا بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ اس کا زور ٹوٹ جاوے گا اور اس کا غلبہ جاتا رہے گا اور بجائے اس کے کہ وہ دنیا کے غالب مذہبوں میں شمار ہو وہ کمزور اور مغلوب مذہبوں میں شمار ہونے لگے گا۔دوسراسوال یہ ہے کہ قتل دجال سے کیا مراد ہے؟ سواس کے متعلق بھی جب کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ دجال کسی ایک شخص کا نام نہیں بلکہ مسیحی اقوام اور اس گروہ کے پادریوں کا نام ہے۔یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ قتل دجال سے ان لوگوں کی مجموعی ہلاکت مراد ہے بلکہ قتل دجال سے یقیناً یہی مراد ہے کہ مسیح اقوام اور ان کے باطل مذہبی خیالات اور ان کی مادیت اور ان کے جھوٹے فلسفہ کا غلبہ خاک میں ملا دیا جاوے گا۔اور اس جگہ ایک خاص نکتہ یاد رکھنے کے قابل یہ ہے کہ دجال سے محض مسیحیت مراد نہیں کیونکہ یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی موجود تھی اور آپ کے ساتھ اس کا مقابلہ بھی ہوا اور اُسے شکست بھی ہوئی۔پس اگر مسیحیت کے باطل خیالات اور اس 102