تبلیغِ ہدایت — Page 97
الشعر ينطف او يهراق رأسه ماءً قلت من هذا قالوا بن مريم ثم ذهبتُ التفت فاذا رجل جسیم احمر جعد الرأس اعور العين كان عينه عنبةٌ طافية فقلت من هذا قالوا هذا الدجال۔نیز فرماتے ہیں:- ( صحیح بخاری جلد دوم کتاب بدء اتحلق ) ينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهذودتين واضعًا كفيه على اجنحة ملكين اذا طأطأ رأسه قطر واذا رفعة تحدّ رمنه مثل جمانٍ كاللؤلوء فلا يحل لكافر يجد من ريح نفسه الأمات۔( صحیح مسلم جلد ثانی) یعنی ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کعبہ کا طواف کر رہا ہوں کہ ناگاہ ایک آدمی میرے سامنے آیا۔اس کا رنگ گندم گوں تھا اور بال سیدھے اور لمبے تھے اور اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے تھے۔میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو مجھے بتایا گیا کہ یہ ابن مریم ہے پھر اس کے بعد میں نے ایک جسیم آدمی دیکھا جو سرخ رنگ کا تھا اور اس کے بال گھنگر الے تھے اور وہ ایک آنکھ سے کانا تھا۔گویا کہ اس کی ایک آنکھ آنگور کے دانے کی طرح پھولی ہوئی تھی مجھے بتایا گیا کہ یہ دجال ہے۔اور ایک حدیث میں یوں آیا ہے کہ مسیح موعود دمشق سے مشرق کی طرف سفید منارے کے پاس نازل ہوگا اس حال میں کہ وہ دو زرد چادروں میں لپٹا ہوا ہوگا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے ہوں گے۔جب وہ اپنا سر جھکائے گا تو اس سے پانی کے قطرے گریں گے اور جب سر کو اُٹھائے گا تو اس سے موتی جھڑیں گے اور ہر کا فرجس تک اس کا سانس پہنچے گا۔مرجائے گا“۔میہ وہ حلیہ ہے جو احادیث میں مسیح موعود کا بیان ہوا ہے اب دیکھ لو کہ کس صفائی کے ساتھ یہ حلیہ حضرت مرزا صاحب میں پایا جاتا ہے۔دنیا جانتی ہے کہ آپ کا رنگ گندم گوں تھا۔آپ کے 97