تبلیغِ ہدایت — Page 96
اگر لوگ خود اپنی آنکھیں نہ بند کر لیں اور اس کی روشنی کو دیکھنے سے منہ نہ پھیر لیں تو وہ ضرور تمام دیکھنے والوں کو نظر آجائے گا کیونکہ وہ ایک بلند مقام پر ہوگا۔پس یہ پیشگوئی استعارہ کے رنگ میں ایک نہایت لطیف کلام پر مشتمل ہے جس کی حقیقت کو سمجھا نہیں گیا۔منارہ کے ساتھ سفید کا لفظ بڑھانے میں بھی ایک حکمت ہے اور وہ یہ کہ گوہر منارہ دُور سے نظر آتا ہے، لیکن اگر وہ سفید ہو تو پھر تو خصوصیت کے ساتھ وہ زیادہ چمکتا اور دیکھنے والوں کی نظر کو اپنی طرف زیادہ کھینچتا ہے یا سفید کا لفظ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسیح موعود کی بلندی بے عیب ہوگی یعنی یہ نہیں ہوگا کہ وہ کسی دنیاوی وجاہت وغیرہ سے ایک بلند مقام پر ہوگا بلکہ اُس کی بلندی خالص طور پر روحانی ہوگی اور اسی مقدس صورت میں وہ لوگوں کو نظر آئے گا بشر طیکہ لوگ تعصب اور ظلمت پسندی کی وجہ سے اپنی آنکھیں خود نہ بند کر لیں۔اس کی ظاہر مثال یوں ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی کوٹھڑی کی کھڑکیاں بند کر کے اندر بیٹھ جائے تو باوجود اس کے کہ سورج چڑھا ہوا ہو۔اس کے کمرہ کے اندراند ھیرا ہی رہے گا۔مگر اس میں سورج کا کوئی قصور نہیں۔اسی طرح اگر کوئی شخص ا۔دل کی کھڑکیاں بند کر لے تو رُوحانی سورج اُسے کس طرح روشنی پہنچا سکتا ہے؟ حضرت مرزا صاحب اس علامت کے پورا ہونے کا اپنے ایک شعر میں یوں ذکر فرماتے ہیں از کلمه مناره شرقی عجب مدار چوں خود ز مشرق است تحلی نیزم یعنی روایات میں جو شرقی منارہ کا ذکر آتا ہے اس کی وجہ سے حیرانی میں نہ پڑو۔کیونکہ میرے سورج کا طلوع بھی مشرق ہی سے ہوا ہے“۔نویس علامت اپنے نویں علامت یہ ہے کہ حدیث میں مسیح موعود کا معین حلیہ بتایا گیا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:۔بينما انا نائم اطوف بالكعبة فاذا رجل ادم سبط 96