تبلیغِ ہدایت — Page 95
يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَ دِمَشْقِ ( کنز العمال جلد ۷ صفحہ ۲۲) یعنی " مسیح موعود دمشق کے شرقی جانب سفید منارہ کے پاس نازل ہوگا“۔اس علامت کے متعلق پہلے یہ یادرکھنا چاہئے کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مسیح موعود آسمان سے نازل نہیں ہوگا بلکہ وہ اس امت کا ایک فرد ہے پس منارہ پر نازل ہونے کے یہ معنے نہیں ہو سکتے کہ مسیح موعود واقعی آسمان کی طرف سے کسی منارہ پر نازل ہوگا اور پھر منارہ سے نیچے اترے گا۔دوسرے یہ کہ اس حدیث میں یہ نہیں کہا گیا کہ منارہ کے اُوپر سے اُترے گا بلکہ الفاظ یہ ہیں کہ منارہ کے پاس اُترے گا۔یعنی وہ ایسی حالت میں اترے گا کہ سفید منارہ اس کے پاس ہوگا اور ان دونوں میں بھاری فرق ہے اس کے بعد جاننا چاہئے کہ قادیان صوبہ پنجاب ملک ہند جو حضرت مرزا صاحب کا وطن ہے ٹھیک دمشق کے مشرقی میں واقع ہے۔یعنی وہ دمشق کے عین مشرق کی طرف اسی عرض بلد میں واقع ہے جس میں کہ دمشق ہے۔پس دمشق کے مشرق والی بات میں تو کوئی اشکال نہ ہوا۔اب رہا منارہ کا لفظ سو اس سے مراد یہ ہے کہ مسیح موعود کا نزول ایسے زمانہ میں ہوگا کہ اس وقت وسائل رسل و رسائل اور میل جول کی کثرت یعنی انتظام ریل و جہاز وڈاک و تار و مطبع وغیرہ کی وجہ سے تبلیغ و اشاعت کا کام ایسا آسان ہوگا کہ گویا یہ شخص ایک منارہ پر کھڑا ہوگا اور یہ کہ اس کی آواز دُور دُور تک پہنچے گی اور اس کی روشنی جلد جلد دنیا میں پھیل جائے گی۔جیسا کہ منارہ کی خاصیت ہے۔گویا کہ مراد یہ نہیں ہے کہ مسیح موعود کا نزول منارہ کے اوپر سے ہوگا بلکہ مراد یہ ہے کہ مسیح موعود اس حالت میں مبعوث ہو گا کہ سفید منارہ اس کے پاس ہوگا۔یعنی اشاعت دین کے بہترین ذرائع اُسے میتر ہوں گے اور ان معنوں میں مشرق کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ مسیح موعود کا سورج اپنے افق مشرق سے بہترین حالات کے ماتحت طلوع کرے گا اور اس کی کرنیں جلد جلد اکناف عالم میں پھیل جائیں گی۔نیز منارے کے لفظ سے یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ جس طرح ایک چیز جو بلندی پر ہو وہ سب کو نظر آجاتی ہے اور دُور دُور کے رہنے والے بھی اسے دیکھ لیتے ہیں اسی طرح مسیح موعود کا قدم بھی ایک منارہ پر ہوگا اور وہ ایسے روشن اور بقین دلائل کے ساتھ ظاہر ہوگا کہ 95