تبلیغِ ہدایت — Page 94
ان دنوں میں بعض اوقات ایک ایک دن میں کئی کئی سو آدمیوں کی بیعت کی درخواست حضرت مرزا صاحب کے پاس پہنچتی تھی اور لوگ بدحواسوں کی طرح آپ کی طرف دوڑے آتے تھے۔یہ ایک عجیب منظر ہے کہ ابتدائی چند سالوں میں احمدیوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں ہوئی لیکن طاعون یعنی دابة الارض کے خروج یعنی ۱۹۰۰ ء کے بعد سے دیکھتے ہی دیکھتے احمد یہ جماعت کا شمار ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں تک پہنچ گیا۔فالحمد لله على ذالك۔یہ کہنا کہ طاعون میں بعض احمدی بھی فوت ہو گئے ایک جہالت کا اعتراض ہے کیونکہ اول تو مقابلہ نظر ڈالنی چاہئے کہ احمدیوں اور غیر احمدیوں میں طاعون کی وارداتوں میں کیا نسبت رہی ہے؟ دوسرے کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں مسلمان شہید نہ ہوتے تھے؟ حالانکہ یہ غزاوت کافروں کے لئے ایک عذاب الہی تھے۔پس دیکھنا یہ چاہئے کہ طاعون کے ذریعہ سے کس جماعت نے ترقی کی اور کس کو نقصان پہنچا ہے اور جو شاذ و نادر واردا تیں احمدیوں میں ہوئی ہیں وہ شہادتیں ہیں جو خدا نے ہمارے بعض بھائیوں کو نصیب کی ہیں مگر پھر بھی جماعت کے سر کردہ لوگ اور خاص مقربین طاعون کے اثر سے بالکل محفوظ رہے، لیکن مخالفوں میں سے کئی لوگ جو مخالفت میں اول نمبر پر تھے اس بیماری کا شکار ہو گئے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس بیماری نے احمد یہ جماعت کو ایک فوق العادت ترقی دی اور دشمنوں کی تعداد کم ہوئی اور ہماری تعداد بڑھی۔غرض دابۃ الارض ظاہر ہو کر اپنا کام کر گیا۔اب خواہ خدا کے حضور رؤو اور چلا ؤ اور دُعاؤں میں اپنی ناکیں گھو کوئی اور دابۃ الارض تمہاری مرضی کے مطابق ظاہر نہیں ہوگا۔کیونکہ جو ظاہر ہونا تھا وہ ہو چکا۔ہاں تمہارے دماغوں میں جہالت اور خود پسندی کا ایک دابہ ضرور مخفی ہے جو تمہیں کھا رہا ہے خدا کرے کہ وہ بھی خروج کرے تا تمہیں کچھ چین آوے۔آٹھویں علامت آٹھویں علامت یہ ہے کہ مسیح موعود دمشق کے شرقی طرف ایک سفید منارے کے پاس نازل ہوگا۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :- 94