تبلیغِ ہدایت — Page 69
مسلمانوں نے تو شروع اسلام میں جو کچھ کیا دفع شر کے لئے کیا اور اس بات کے لئے کیا کہ مذہبی آزادی قائم ہو جائے اور لوگ جس مذہب کو دل سے درست سمجھیں اُسے کھلم کھلا قبول کریں۔ہاں بیشک بعد میں جب ابتدائی لڑائیوں کے نتیجہ میں ایک اسلامی سلطنت قائم ہوگئی تو بعض اوقات مسلمانوں کو سیاسی اغراض کے ماتحت بھی جنگ کرنی پڑی یا بعض وقت ان کو اس لئے تلوار اُٹھانی پڑی تا وہ ایسے ممالک میں تبلیغ اسلام کا راستہ کھولیں جن میں مذہبی آزادی کے نہ ہونے کی وجہ سے اسلام کی تبلیغ کا دروازہ بند تھا اور لوگوں کو اسلام قبول کرنے سے جبراً روکا جاتا تھا، لیکن صحابہ نے کبھی بھی کوئی شخص جبراً مسلمان نہیں کیا۔پس کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ مہدی کی بعثت کی علت غائی ہی یہ سمجھی جاتی ہے کہ وہ تمام دنیا کو جبراً مسلمان کرتا پھرے گا۔کیا ایسے مہدی کا آنا اسلام کے لئے باعث فخر ہو سکتا ہے؟ نہیں اور ہر گز نہیں بلکہ جائے فخر تو یہ ہے کہ اسلام کو دلائل کی قوت اور روحانی جذب کے ذریعہ تمام مذاہب پر غالب ثابت کیا جاوے۔اسلام کی خوبیاں لوگوں کے سامنے رکھی جائیں اور یہ بتایا جائے کہ اسلام ہی وہ زندہ مذہب ہے جو اپنی صداقت کے اس قدر دلائل رکھتا ہے کہ اگر خدا کا خوف دل میں رکھ کر اس پر غور کیا جائے توممکن ہی نہیں کہ انسان پر اس کی سچائی مخفی رہے۔مندرجہ بالا دلائل سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ اسلامی تعلیم کی رو سے ہرگز کوئی ایسا مہدی نہیں آئے گا جو آتے ہی لڑنا شروع کر دے اور لوگوں کو جبراً مسلمان کرتا پھرے۔غور کا مقام ہے کہ کیا مہدی اسلامی تعلیم کا پابند نہیں ہوگا؟ کیا اُس کے زمانہ میں شریعتِ اسلام منسوخ ہو جائے گی ؟ جب یہ نہیں اور مہدی نے بطور خادم اسلام کے ہی ظاہر ہونا ہے تو پھر با وجود اسلام کی اس واضح تعلیم کے کہ مذہب کے معاملہ میں جبر جائز نہیں وہ کفار کے خلاف کس طرح تلوار اُٹھائے گا؟ اگر وہ ایسا کرے گا تو یقیناً وہ مصلح نہیں ہوگا۔بلکہ اسلام کی تعلیم کو بگاڑنے والا ٹھہرے گا اور فساد کوڈ ور کرنے کی بجائے خود فساد کا موجب بن جائے گا۔پھر یہ بات بھی غور طلب ہے کہ جب یہ ثابت ہو چکا کہ مسیح اور مہدی ایک ہی شخص کے دو نام ہیں تو مہدی کس طرح تلوار اُٹھا سکتا ہے جبکہ مسیح کے متعلق صاف الفاظ میں آتا ہے کہ وہ جنگ کو 69