تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 39 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 39

کوئی ایسا قرینہ لاتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہاں کامل قبض روح مراد نہیں جو وفات کے وقت ہوتا ہے بلکہ نیند کے وقت کا قبض روح مراد ہے جیسا کہ قرآن شریف میں خدا فرماتا ہے :- هُوَ الَّذِى يَتَوَفَكُمْ بِاليل۔(سورہ انعام ع ) یعنی ” خدا ہی ہے جو رات کے وقت تمہاری روحوں کو قبض کرتا ہے یہاں تو ٹی کا لفظ نیند والے قبض روح کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔کیونکہ رات کا قرینہ ساتھ لگا ہوا ہے لیکن وفات والے قبض رُوح کے لئے لفظ توفی کے ساتھ کسی قرینہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے إِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّک۔(سورہ مومن ع۸) یعنی اے نبی ! ہم جو کفار کو عذاب کے وعید دے رہے ہیں ان میں سے بعض وعید تیری زندگی میں ہی تجھے دکھا دیں گے اور یا تجھے وفات دے دیں گے اور تیرے بعد ان وعیدوں کو پورا کریں گے۔پھر فرما یارَ بَّنَا افْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ۔(سورة اعراف ع ۱۴) یعنی ” اے ہمارے رب! ہمیں صبر کی کامل توفیق عطا کر اور ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے فرمانبردار بندے ہوں“ ان ہر دو آیتوں میں تو کمی کا لفظ وفات دینے کے معنوں میں آیا ہے اسی لئے کوئی قرینہ ساتھ نہیں ہے۔امام ابن حزم نے بھی تو قی کے لفظ کی تشریح میں یہی لکھا ہے کہ اس سے یا تو نیند مراد ہوتی ہے یا موت اور ساتھ ہی تشریح کی ہے کہ چونکہ حضرت عیسی کے معاملہ میں نیند مراد نہیں ہو سکتی اس لئے لاز مأموت کے معنے لینے ہونگے۔( دیکھو المحلى جلدا صفحه ۲۳) اس کے علاوہ خود آیت زیر بحث پر غور کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ یہاں توئی کا لفظ وفات دینے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے کیونکہ حضرت عیسی فرماتے ہیں كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيداً مَّادُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِی یعنی میں اُن کو دیکھتا رہا جب تک میں اُن کے درمیان رہا مگر جب اے خدا تو نے میری روح قبض کرلی۔۔۔۔۔۔الخ “ اب اس جگہ مَا دُمْتُ فِيهِمْ کا قرینہ اس بات پر صاف شاہد ہے کہ یہاں وفات والا قبض روح مراد ہے جس کے نتیجہ میں حضرت عیسی اپنے متبعین کے درمیان سے اُٹھ گئے اور ان کے اندر موجود نہ رہے کیونکہ الفاظ مَا دُمْتُ فِيْهِمْ اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی ایک دوسرے کے مقابلہ میں واقعہ ہوئے ہیں۔پس یہاں نیند والا قبض روح مراد نہیں ہو 39