تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 35 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 35

اعْبُدُوا اللهَ رَبِّي وَرَبِّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ جَ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ طَ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْ ءٍ شَهِيدٌ (سوره مائده ع ۱۶) یعنی جب خدا نے کہا اے عیسی بن مریم کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو دو خدامان لو تو عیسی نے جواب دیا کہ اے خدا پاک ہے تیری ذات مجھے زیبا نہیں کہ وہ بات کہوں جس کا مجھے حق نہیں۔اگر میں نے کوئی ایسی بات کہی ہے تو تو اُسے جانتا ہے کیونکہ تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے۔تو بیشک سب غیبوں کا جاننے والا ہے۔میں نے انہیں سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا اور وہ یہ کہ عبادت کرو اس کی جو میرا اور تمہارا دونوں کا رب ہے اور میں ان کی حالت کو دیکھتا رہا جب تک کہ میں ان کے درمیان رہا لیکن جب اے خدا تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو ہی اُن کا نگران تھا اور تُو ہر ایک چیز کو دیکھنے والا ہے۔“ یہ آیت صاف الفاظ میں حضرت مسیح کی وفات کا پتہ دے رہی ہے مگر افسوس ہے کہ مسلمان انہیں پھر بھی آسمان پر زندہ بٹھائے ہوئے ہیں اس آیت میں مسیح کی وفات کے متعلق جو وضاحت ہے اس سے بڑھ کر وضاحت تصور میں نہیں آسکتی۔مگر افسوس! کہ اس میں بھی ہمارے مولوی شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔مثلاً کہتے ہیں مسیح کے ساتھ خدا کا یہ سوال وجواب قیامت کے دن ہوگا اور چونکہ قیامت سے پہلے بہر حال حضرت مسیح “ وفات پاچکے ہوں گے اس لئے یہ آیت اس بات پر دلیل نہیں ہو سکتی کہ حضرت مسیح واقعی آج سے پہلے وفات پاچکے ہیں۔اس شبہ کے جواب میں یا درکھنا چاہئے کہ خواہ یہ سوال وجواب قیامت ہی کے دن سے متعلق سمجھا جائے پھر بھی یہ آیت صاف طور پر سی پر فاتحہ خوانی کر رہی ہے۔کیونکہ مسیح کے الفاظ یہ ہیں۔گنٹ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ یعنی ” میں ان لوگوں کو دیکھتا رہا جب تک کہ میں اُن میں رہا لیکن جب اے خدا تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر 35