تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 257 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 257

بالکل شروع میں کہتا ہے کہ اے میرے بندو! مجھ سے فلاں فلاں چیز مانگو۔تو کیا اب اگر کوئی شخص اُس سے اس چیز کا سوال کرے گا اور اپنے آپ کو اُس کا جاذب بھی بنائے گا تو وہ اسے اس چیز کے دینے سے انکار کر دیگا ؟ یہ الگ بات ہے کہ سائل اس انعام کا حقدار ہی نہ ہو۔یا زمانہ کی ضرورت اس کی متقاضی نہ ہو اور اس وجہ سے اُس کا سوال رڈ کر دیا جائے۔مگر خدا را یہ غضب تو نہ کرو کہ انعام کا دروازہ ہی بند ہو جائے اور انعام بھی وہ جس کے مانگنے کی خود خدا تعالیٰ نے تعلیم دی ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ کا سورۃ فاتحہ میں یہ دعا سکھانا کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِم اور دوسری طرف اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی تفسیر میں یہ فرمانا کہ اس سے صالح ، شہید، صدیق اور نبی مراد ہیں اس بات پر ایک بین دلیل ہے کہ نبوت کا انعام اس امت پر ہرگز بند نہیں ہوا بلکہ اب بھی جاری ہے اور جاری رہے گا۔ہاں بیشک تشریعی نبوت ضرور بند ہے کیونکہ قرآن کے نزول سے شریعت مکمل ہو چکی ہے۔دوسری دلیل جو قرآن شریف سے نبوت کے جاری ہونے کی تائید میں ملتی ہے وہ اس آیت میں بیان ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- يُبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ ابْتِي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (سورة اعراف عم) یعنی اے بنی آدم ! اگر تمہارے پاس میرے رسول آئیں تمہیں میں سے اور وہ بیان کریں تم پر میری آیات تو اس وقت جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرے گا تو ایسے لوگوں پر کسی قسم کا خوف غالب نہیں آئے گا اور نہ وہ غمزدہ ہونگے۔“ اس آیت کریمہ کے سیاق وسباق سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں ” بنی آدم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک سے بعد کے لوگ مراد ہیں۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اللہ تعالیٰ لوگوں سے یہ خطاب فرما رہا ہے کہ اے لوگو اگر تمہارے پاس میرے رسول آئیں جو تم پر میری آیات پڑھیں تو تم تقویٰ اختیار کرنا اور انہیں مان کر اپنی اصلاح کرنا۔اگر تم ایسا کرو گے تو تم ہر قسم کے خوف اور حزن سے محفوظ ہو جاؤ گے۔اب ناظرین انصاف سے دیکھیں کہ 257