تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 222 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 222

ہیں یقین اور قطعیت کے مرتبہ کو نہیں پہنچتیں اور عقل کا بھی یہی تقاضا ہے کہ جو اقوال لوگوں کے سینوں سے ڈیڑھ دو سو سال بعد جمع کئے گئے ہوں اور جن کی حفاظت کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء اربعہ اور حکومت اسلامی کی طرف سے کوئی خاص انتظام بھی نہ کیا گیا ہو ان کو ہرگز یہ مرتبہ حاصل نہیں ہو سکتا کہ خدائی شہادت اور قرآنی بینات اور قطعی اور یقینی براہین کے مقابلہ میں اُن کی کچھ حقیقت سمجھی جائے۔اور خود محدثین نے بھی اقرار کیا ہے کہ احادیث کے الفاظ کی صحت کا دعوئی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اکثر لوگ روایت بالمعنی کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔اور پھر راویوں کے حافظہ کی غلطیاں اور ان کی سمجھ کی غلطیاں اور بعض صورتوں میں ان کی دوسری کمزوریاں وغیرہ کئی قسم کی باتیں ہیں جو اثر ڈالتی ہیں۔ان حالات میں بعض تفاصیل کے الفاظ پر اڑنا اور بینات کو نظر انداز کر دینا کسی طرح سلامتی کی راہ نہیں۔پس یہ ایک نہایت قوی اور پختہ بات ہے کہ چونکہ احادیث میں احتمال کا پہلو موجود ہے اس لئے صرف انہیں پر اپنی تحقیقات کی مستقل بنیا د رکھنا اور وہ بھی ایسے حالات میں کہ قرآن کریم ان کے خلاف کہتا ہو اور عقلِ خدا داد بھی اُن کے خلاف ہو اور خدائی شہادت بھی ان کے خلاف ہو اور خود دوسری صحیح حدیثیں بھی ان کو رڈ کر رہی ہوں ہرگز جائز نہیں ہوسکتا۔اس ضمن میں یہ بات بھی یادرکھنی چاہئے کہ کتب احادیث کے بھی کئی مراتب ہیں۔مثلاً اہل سنت و الجماعت نے قریباً متفقہ طور پر قرآن کریم کے بعد صحیح بخاری کا مرتبہ تسلیم کیا ہے۔یا بعض لوگ مؤطا امام مالک کو ایسا سمجھتے ہیں۔اب ہم ان دونوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کی بیان کردہ احادیث میں ایک علامت بھی ایسی نہیں ملتی جو حضرت مرزا صاحب میں نہ پائی جاتی ہو بلکہ سب علامات آپ میں معقول طور پر پائی جاتی ہیں۔ہاں صحیح مسلم سے ایسی روایتوں کا وجود شروع ہوتا ہے جو کسی قدر اشکال پیش کرتی ہیں۔اور پھر جوں جوں ہم کتب احادیث میں صحت کے مقام سے نیچے اترتے جاتے ہیں روایات کی مشکلات بڑھتی جاتی ہیں۔اب یہ ایک نظمند کے لئے نہایت سنجیدگی سے غور کرنے کا مقام ہے کہ جن روایات میں اشکال نظر آتا ہے وہ نہ تو قرآن شریف میں پائی جاتی ہیں اور نہ صیح بخاری میں اور نہ موطا امام مالک میں ان کا کچھ پتہ چلتا ہے اور اگر کچھ پتہ چلتا 222