تبلیغِ ہدایت — Page 208
وجہ سے نہایت ظالمانہ طور پر قتل کئے گئے انہوں نے موت قبول کر لی لیکن ایمان کو چھوڑ نا گوارا نہ کیا۔مولوی سید عبداللطیف صاحب شہید کا وہ پایہ تھا کہ امیر حبیب اللہ خان کی تاجپوشی کی رسم انہوں نے ادا کی تھی اور دربارشاہی میں ان کو بڑا رسوخ حاصل تھا۔مگر جب خدا نے ان کو حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ وہ ایمان عطافرما دیا جو دنیا سے گم ہو چکا تھا تو انہوں نے اس ایمان کی خاطر تمام دنیوی وجاہتوں پر لات مار دی تھی۔حتی کہ اپنی جان کی بھی کچھ پرواہ نہ کی۔امیر حبیب اللہ خان نے اُن کو بار بار سمجھایا کہ اگر تم احمدیت سے باز آ جاؤ گے تو میں تمہیں پھر پہلے کی طرح معزز کر دوں گا اور تمہاری عزت بڑھا دوں گا۔ورنہ تمہاری سزا موت ہے اگر تمہیں اپنی حالت پر رحم نہیں آتا تو اپنے بیوی بچوں پر ہی رحم کرو اور اپنے ان خیالات سے تو بہ کر لو۔مگر انہوں نے ہر دفعہ یہی جواب دیا کہ میں ایمان پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دے سکتا۔فاقض ما انت قاض انّما تقضى هذه الحيوة الدنيا ( یعنی آپ کے جی میں جو آئے کر گزریں۔بہر حال آپ کا فیصلہ صرف اسی دنیا تک محدود ہے ) آخر جب امیر نے دیکھا کہ کابل کے مولویوں نے اُن پر کفر کا فتویٰ لگادیا ہے اور لالچ اور خوف ان کو ایمان سے نہیں پھیر سکتے تو اُس نے حکم دیا کہ ان کو کمر تک زمین میں گاڑ کر اوپر سے پتھر برسائے جائیں چنانچہ اُن کو اسی طرح زمین میں زندہ گاڑ دیا گیا اور اس کے بعد امیر پھر آگے بڑھ کر اُن کے پاس گیا اور کہا کہ اب بھی وقت ہے اپنے خیالات سے باز آجاؤ مگر ان کی طرف سے پھر وہی جواب تھا کہ میں ایمان فروشی نہیں کر سکتا۔اس پر امیر نے حکم دیا کہ پتھراؤ کیا جائے۔بس پھر کیا تھا چاروں طرف سے پتھر برسنے شروع ہو گئے مگر دیکھنے والے کہتے ہیں کہ شہید مرحوم نے اُف تک نہیں کی حتی کہ اس بے گناہ و مظلوم عاشق باری کی رُوح اس عالم سفلی سے عالم علوی کی طرف پرواز کر گئی۔اسی طرح اس سے قبل مولوی سید عبداللطیف صاحب مرحوم کے شاگردمولوی عبدالرحمن خان صاحب امیر عبدالرحمن خاں کے حکم سے قتل کر دیئے گئے تھے انہوں نے بھی قتل کئے جانے کو قبول کیا تھا مگر ایمان کو نہ چھوڑا تھا پھر امیر امان اللہ خان کے عہد میں بھی ایک مخلص نوجوان مولوی نعمت اللہ خان صاحب احمدیت کی وجہ سے سنگسار کئے گئے انہوں نے بھی صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب کی طرح جاں نثاری کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا اور اپنے ایمان 208