تبلیغِ ہدایت — Page 206
احمدیوں کی بات بات سے خدا اور اُس کے رسول اور اس کے دین سے عشق و محبت کی معطر لپٹیں پھوٹ پھوٹ کر نکلتی ہیں۔محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو بچھپا نہیں رہ سکتا۔عاشق کی ہر بات اور ہر حرکت اور ہر سکون اس کے عشق کی کہانی کہے دیتے ہیں۔اس کی زبان اُس کا راز افشاء کر دیتی ہے۔اسکا چہرہ اس کا بھید کھولتا ہے اس کی آنکھیں اس کی ترجمانی کرتی ہیں اور الحمد للہ کہ جماعت احمدیہ میں یہ علامت بھی نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔مگر جس کے کان نہیں وہ کیا سنے۔جس کی آنکھیں نہیں وہ کیا دیکھے جس کا دل نہیں وہ کیا سمجھے۔ایمان کی پانچویں علامت پانچویں علامت ایمان کی یہ ہے کہ مومن ایمان کی خاطر اپنی ہر چیز قربان کر دینے کو تیار ہوتا ہے۔اپنا مال۔اپنے عزیز۔اپنی جان اور اپنی آبرو۔یعنی جب کبھی حالات ایسے پیدا ہوتے ہیں کہ اُسے اپنے ایمان اور اپنی کسی دوسری چیز میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا پڑتا ہے اور یہ ناممکن ہو جا تا ہے کہ وہ دونوں کو بچا سکے تو وہ ایمان کو اختیار کرتا ہے اور دوسری چیز کو چھوڑ دیتا ہے اب دیکھو کہ الحمد للہ اس علامت کی رُو سے بھی صرف احمد یہ جماعت ہی وہ جماعت ثابت ہوتی ہے جو بچے معنوں میں ایماندار کہلا سکے کیونکہ یہ ایک بین حقیقت ہے کہ احمد یہ جماعت میں سے بیشتر حصے نے ایمان کو بڑی بڑی گرانقدر قیمتیں دے دے کر خریدا ہے۔ایمان کی خاطر مالی قربانی کا ذکر او پر گذر چکا ہے کہ کس طرح باوجود پرلے درجہ کی غربت کے یہ جماعت لاکھوں روپیہ تبلیغ اسلام کی خاطر خرچ کر رہی ہے قریباً سب ایسے ہیں جو اپنی اپنی آمد کا سولھواں حصہ با قاعدہ خدمت دین کے لئے دیتے ہیں۔کثیر التعداد ایسے ہیں جو دسواں حصہ دیتے ہیں۔بہت ہیں جو پانچواں حصہ دیتے ہیں۔کئی ہیں جو تیسرا حصہ دیتے ہیں اور بعض نے تو قوت لایموت سے زیادہ اپنے مصرف میں لانا اپنے او پر حرام کر رکھا ہے۔مگر یہ اس حالت میں ہے کہ اس سے زیادہ اُن سے مانگا نہیں جاتا۔ورنہ جماعت کی کانفرنسوں میں متعد دمرتبہ یہ بات تجربہ میں آچکی ہے کہ احمدیوں نے نہایت جوش اور مسرت سے یہ کہا ہے کہ اگر دین کے لئے ضرورت پیش آئے تو ہمارا سب کچھ حاضر ہے گذشتہ دنوں 206