تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 192 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 192

قادیان جا کر حالانکہ اس وقت مرزا صاحب کو فوت ہوئے آٹھ سال گزر چکے تھے ایک ایسی جماعت دیکھی جس میں مذہب کے لئے وہ سچا اور زبردست جوش موجود تھا جو ہندوستان کے دوسرے مسلمانوں میں آج کل مفقود ہے۔قادیان جا کر انسان سمجھ سکتا ہے کہ ایک مسلمان کو محبت اور ایمان کی وہ روح جسے وہ دوسرے مسلمانوں میں بے سود تلاش کرتا ہے۔احمد کی جماعت میں بافراط ملے گی۔مسیح موعود کا تیسرا کام ( ترجمه از احمدیہ موومنٹ مصنفہ مسٹر والٹرایم۔اے) تیسرا کام مسیح موعود کا یہ بتایا گیا تھا کہ وہ کھوئے ہوئے ایمان کو پھر دُنیا میں قائم کرے گا یعنی اس کے زمانہ میں حقیقی ایمان دنیا سے مفقود ہو چکا ہوگا، لیکن وہ پھر دوبارہ ایمان کو دنیا میں واپس لائے گا سو اس بات کے متعلق کہ واقعی ایمان دنیا سے کھویا جا چکا تھا ہم کافی لکھ آئے ہیں اعادہ کی ضرورت نہیں۔اس جگہ صرف چند زائد امور لکھے جاتے ہیں یہ ایک بین اور بہت صاف بات ہے کہ ایمان کا دعویٰ اور ہے اور ایمان پر واقعی قائم ہونا اور۔یوں تو چالیس کروڑ مسلمان کہلانے والے سب کے سب ہی دعوی کرتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن حالات پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دعویٰ کہاں تک درست ہے۔ایمان کی حقیقت حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایمان کا ابتدائی مرتبہ یہ ہے کہ مومن آگ میں زندہ ڈالے جانے کو پسند کرتا ہے مگر یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جائے ( مشکوۃ کتاب الایمان ) اور قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔قُلُوْبِكُمْ قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوْ وَلَكِنْ قُوْلُوْا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي (سورة حجرات ع٢) 192