تبلیغِ ہدایت — Page 191
میں اس جگہ ہندوستان کے ایک مشہور انگریزی اخبار پائنیر الہ آباد کی رائے کا ترجمہ بھی درج کئے دیتا ہوں جو اس نے حضرت مرزا صاحب کی وفات پر ظاہر کی :- اگر گذشتہ زمانہ کے اسرائیلی نبیوں میں سے کوئی نبی عالم بالا سے واپس آکر اس زمانہ میں دنیا میں تبلیغ کرے تو وہ بیسویں صدی کے حالات میں اس سے زیادہ غیر موزوں معلوم نہ ہوگا جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی تھے۔۔۔۔۔۔ہم یہ قابلیت نہیں رکھتے کہ ان کی عالمانہ حیثیت پر کوئی رائے لگا سکیں مگر ہم یہ جانتے ہیں کہ مرزا غلام احمد صاحب کو اپنے متعلق یا اپنے دعوی کے متعلق کبھی کوئی شک نہیں ہوا۔اور وہ کامل صداقت اور کامل خلوص سے اس بات کا یقین رکھتے تھے کہ اُن پر الہام الہی نازل ہوتا ہے اور یہ کہ ان کو ایک خارق عادت طاقت بخشی گئی ہے۔۔۔۔وہ لوگ جنہوں نے مذہبی میدان میں دنیا کے اندر ایک حرکت پیدا کر دی ہے وہ اپنی طبیعت میں مرزا غلام احمد صاحب سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔بہ نسبت مثلاً ایسے شخص کے جیسا کہ اس زمانہ میں انگلستان کا لارڈ بشپ ہوتا ہے اگر ارنسٹ رینن (فرانس کا ایک مشہور مؤرخ ہے ) گذشتہ ہیں سال میں ہندوستان میں ہوتا تو وہ یقیناً مرزا صاحب کے پاس جاتا اور ان کے حالات کا مطالعہ کرتا جس کا یہ نتیجہ ہوتا کہ انبیاء بنی اسرائیل کے عجیب وغریب حالات پر ایک نئی روشنی پڑتی۔بہر حال قادیان کا نبی ان لوگوں میں سے تھا جو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔ایک اور مصنف مسٹر ایچ۔اے والٹر جو تمام ہندوستان کی ینگ مین کرسچن ایسوسی ایشن کا سیکرٹری تھا اپنی کتاب ”احمد یہ موومنٹ میں لکھتا ہے :- یہ بات ہر طرح سے ثابت ہے کہ مرزا صاحب اپنی عادات میں سادہ اور فیاضانہ جذبات رکھنے والے انسان تھے۔ان کی اخلاقی جرات جو انہوں نے اپنے مخالفوں کی طرف سے شدید مخالفت اور ایذاء رسانی کے مقابلہ میں دکھائی یقینا قابل تحسین ہے صرف ایک مقناطیسی جذب اور دلکش اخلاق رکھنے والا شخص ہی ایسے لوگوں کی دوستی اور وفاداری حاصل کر سکتا ہے جن میں سے کم از کم دو نے افغانستان میں اپنے عقائد کے لئے جان دے دی۔مگر مرزا صاحب کا دامن نہ چھوڑا۔۔۔۔میں نے ۱۹۱۶ ء میں 191