تبلیغِ ہدایت — Page 179
زیادہ عظمت اور زیادہ شان رکھتی ہے۔آپ نے اتنی سے زیادہ کتابیں تصنیف فرما ئیں جن میں سے بعض بڑی بڑی ضخیم کتابیں ہیں۔اور سینکڑوں اشتہارات ہزاروں کی تعداد میں شائع کئے۔آپ کی تصنیفات اکثر زبان اردو میں ہیں لیکن ایک کافی تعداد عربی میں بھی ہے جو بلادِ عرب و مصر و شام و فلسطین وغیرہ میں پھیلائی جا چکی ہیں۔بعض کتابیں آپ کی فارسی میں بھی ہیں۔آپ کی تصنیفات میں مذہبی لٹریچر کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جو نظر انداز کیا گیا ہو۔جس طرح دوسرے موجودہ مذاہب کا بطلان ثابت کیا گیا ہے اسی طرح اسلام کی صداقت اور اس کے محاسن بیان کر کے اس کی ارفع شان ظاہر کی گئی ہے۔مسلمانوں کے غلط عقائد اور غلط خیالات کی اصلاح اور اپنی جماعت کی اخلاقی اور روحانی اصلاح کی طرف بھی پوری توجہ دی گئی ہے آپ کی زندگی میں ہی تین اُردو اخبار، تین اردو ماہوار رسالے اور ایک انگریزی رسالہ با قاعدہ قادیان سے شائع ہوتے تھے ان میں سے انگریزی رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے کام کے متعلق ایک یورپین پادری کی رائے مثال کے طور پر درج ذیل کرتا ہوں۔یہ رسالہ اسم بامسمی ہے کیونکہ اس رسالے نے مذاہب کے ایک نہایت وسیع حلقے کو اپنے کام میں شامل کیا ہے اور مذہبی مضامین کے ایک بڑے وسیع دائرہ پر نظر ڈالی ہے۔مثلاً سناتن دھرم - آریہ سماج۔برہمو سماج تھیا سونی۔سکھ ازم۔بدھ ازم۔جین ازم۔زرتشتی مذہب۔بہائی ازم۔مسیحیت اور علوم مسیحی وغیرہ سب پر اس رسالہ نے بخشیں کی ہیں۔پھر اسی طرح اسلام کی قدیم اور جدید شاخیں مثلاً شیعہ اہل حدیث۔خارجی۔صوفی اور موجودہ زمانہ کے دلدادگان سرسید احمد خان وسید امیر علی وغیرہ کو اپنی بحث میں شامل کیا ہے۔(دیکھو احمدیہ موومنٹ مصنفہ ایچ اے والٹر ایم اے صفحہ ۱۷) پھر اسی رسالہ کے متعلق اے اروب امریکہ سے لکھتا ہے :۔اس رسالہ کے مضامین روحانی صداقتوں کی نہایت پر حکمت اور روشن تفسیر ہیں۔کونٹ ٹالسٹائے روس کا نہایت نامور مصنف لکھتا ہے :- اس رسالے کے خیالات بڑے وزنی اور بڑے سچے ہیں۔179