تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 163 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 163

مرزا صاحب کی کتب میں ذکر پایا جاتا ہے پھر تھیا صوفی ہے جو گو کوئی مذہب نہیں بلکہ ایک فلسفہ ہے لیکن یہ بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔(دیکھور یو یو آف ریلیجنز ) پھر بہائی مذہب ہے جس میں زندگی کی کچھ حرکت پائی جاتی ہے کیونکہ یہ ایک بالکل نیا سلسلہ ہے لیکن اب وہ بھی گر رہا ہے نیز غور کرو تو پتہ لگتا ہے کہ یہ کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ ایک قسم کی اخلاقی سوسائٹی ہے۔اس کے بانی نے جس کا دعویٰ خدائی بروز ہونے کا تھانہ کہ رسول ہونے کا۔مختلف مذاہب کی اچھی نظر آنے والی تعلیمات کو لیکر جو سننے میں کانوں کو بھلی معلوم ہوتی ہیں ایک سلسلہ جاری کر دیا تھا اور اس وجہ سے کہ اس میں کوئی ایسے اصولی مذہبی عقائد نہیں پائے جاتے جن پر عمل ضروری ہو اور وہ دوسرے مذاہب سے ٹکرائیں بلکہ تمام مذاہب کو فی الجملہ اچھا کہا جاتا ہے اور ایک متحدہ اخلاقی تعلیم دی جاتی ہے اس زمانہ کے بعض آزاد طبع لوگوں کو اس کی طرف توجہ ہو جاتی ہے مگر اسی سے ظاہر ہے کہ دراصل یہ مذہب آزاد خیالی کی ایک شاخ ہے جس میں قرآنی شریعت کے منسوخ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے اس کے متعلق بھی ریویو آف ریلیجز قادیان میں بحث ہو چکی ہے اور جماعت احمدیہ کی طرف سے بعض کتابیں بھی شائع کی گئی ہیں۔( مثلا دیکھو بہائی تحریک مصنفہ مولوی ابوالعطاء صاحب) مذہبی تحقیق کے متعلق دوز زین اصول اب تفصیلی طور پر تو مذاہب کے مقابلہ کا ر یو یو ہو چکا لیکن اس بحث کو ختم کرنے سے پہلے اس مسئلہ پر ہم بحیثیت مجموعی ایک اجمالی نظر ڈالتے ہیں اور مختصر طور پر ان باتوں کا ذکر کرتے ہیں جو عام طور پر حضرت مرزا صاحب نے خدمت اسلام کے لئے کیں۔پہلی بات یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے مذہبی بحث و مناظرہ کے لئے ایک ایساز رین اصول قائم کیا ہے کہ جو بحث بین المذاہب کو بہت مختصر کر دیتا ہے اور جس سے ایک طالب حق کو حق و باطل میں تمیز کرنے کا بہت اچھا موقعہ ہاتھ آتا ہے اسی اصول کی طرف ہم نے آتھم کے مباحثہ کا ذکر کرتے ہوئے اشارہ کیا تھا اور وہ اصول یہ ہے اور حضرت مرزا صاحب نے اس پر بہت زور دیا 163