تبلیغِ ہدایت — Page 123
آخری مضمون ) اس پیشگوئی کا ایسا خوف آتھم کے دل پر طاری ہوا کہ وہیں اُسی مجلس میں اُس نے اپنی زبان منہ سے باہر نکال کر اور کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا کہ میں نے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال نہیں کہا۔حالانکہ وہ اپنی کتاب اندرونہ بائیبل میں دجال کہہ چکا تھا پھر اس کے بعد مجوں لجوں میعاد گذرتی گئی اس کا خوف اور کرب بڑھتا گیا اور وہ ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف بھا گتا تھا اور اُسے اپنے خوف زدہ تخیل میں کبھی تو نگی تلواروں والے نظر آتے تھے اور کبھی سانپ دکھائی دیتے تھے۔(دیکھو بیان مارٹن کلارک مشمولہ کتاب البریہ ) اور اُس نے اپنی قلم اور زبان کو اسلام کے خلاف بالکل روک لیا اور معلوم ہوا ہے کہ ان ایام میں وہ الگ بیٹھ کر قرآن شریف بھی پڑھا کرتا تھا اور اگر چہ عیسائیوں نے اس کا خوف کم کرنے کے لئے اس کے لئے پولیس کے خاص پہرہ کا انتظام بھی کر دیا تھا، لیکن پھر بھی اس کا خوف بڑھتا جا تا تھا آخر اس کی حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ اُن کو اُسے شراب پلا پلا کر مد ہوش رکھنا پڑا۔غرض ہر طرح اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت اور اسلامی صداقت سے مرعوب ہونے کا اظہار کیا۔پس خدا نے پیشگوئی کی شرط کے مطابق اُسے میعاد کے اندر ہاویہ میں گرنے سے بچالیا۔لیکن جیسا کہ جھوٹوں کا قاعدہ ہوتا ہے میعاد گذرنے پر عیسائیوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ پیشگوئی غلط نکلی۔اس پر حضرت مرزا صاحب نے اُن کو مدتل طور پر سمجھایا کہ آتھم کا بچنا پیشگوئی کے مطابق ہوا ہے کیونکہ یہ پیشگوئی مرکب نوعیت کی تھی یعنی اس کا مفہوم یہ تھا کہ اگر آتھم رجوع نہ کرے گا تو پندرہ ماہ میں ہادیہ میں گرایا جائے گا اور اگر رجوع کرے گا تو اس صورت میں محفوظ رہے گا گویا ایک پہلو سے اس کے ہلاک ہونے اور ایک پہلو سے اُس کے زندہ رہنے کی پیشگوئی تھی۔پس جب اس کا خوف اور رجوع ثابت ہے تو اس کا زندہ رہنا پیشگوئی کے مطابق ہوا نہ کہ مخالف مگر عیسائیوں نے یہ نہ مانا یا یوں کہو کہ ماننا نہ چاہا۔اس پر حضرت مرزا صاحب کی اسلامی غیرت جوش زن ہوئی اور آپ نے بذریعہ اشتہار یہ اعلان کیا کہ اگر آتھم اس بات پر حلف اٹھا جائے کہ اس پر پیشگوئی کا خوف غالب نہیں ہوا اور اُس نے اسلام کی طرف رجوع نہیں کیا اور اس حلف کے بعد وہ ایک سال کے اندر اندر ہلاک نہ ہو جائے تو میں اُسے ایک ہزار روپیہ نقد انعام 123