سیدنا بلالؓ

by Other Authors

Page 15 of 29

سیدنا بلالؓ — Page 15

سیدنا بلال 25 حضرت عمر بھی مسلمان ہو گئے حضرت عمر بھی مسلمان ہو گئے کھڑا ہو گیا۔حضور میرے پاس آئے اور کہا۔بڑھانے کی ضرورت نہیں۔یوں بات تو ختم ہوگئی۔حمزہ اپنے گھر آگئے جوش میں تو یہ کہ آئے تھے کہ میں محمد کے دین پر ہوں۔جب غصہ کم ہوا تو سوچنے لگے۔یہ میں نے کیا کہہ دیا۔دیر تک سوچتے رہے۔دل تو پہلے ہی اسلام کی اچھی باتوں کو مان چکا تھا۔ایک جھجک باقی تھی۔آخر یہی فیصلہ کیا کہ بت پرستی چھوڑ دینی چاہیے۔آپ رسول اللہ کے پاس آئے اور اسلام قبول کر لیا۔حمزہ کے مسلمان ہونے پر ہم بہت خوش ہوئے۔ابو بکر تو اتنے خوش ہوئے کہ خانہ کعبہ میں اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور خدا کے ایک ہونے کا اعلان کیا۔ابوبکر کے اس اعلان پر قریش کو بہت غصہ آیا۔انہوں نے ابو بکر کو اتنامارا کہ آپ بے ہوش ہو گئے۔ہم انہیں اٹھا کر گھر لائے۔حضرت عمرؓ بھی مسلمان ہو گئے خدا جب خوشیاں دینے پر آتا ہے تو کون اسے روک سکتا ہے۔چند ہی روز بعد خدا تعالیٰ نے ہمیں ایک اور خوشی دی۔عمر جو خطاب کے بیٹے تھے مکہ کے مشہور سرداروں میں سے تھے اور حمزہ کی طرح بہت بہادر اور نڈر تھے۔اونچے قد کے مضبوط جوان تھے۔طاقتور اتنے تھے کہ چلتے ہوئے اونٹ پر چھلانگ مار کر سوار ہو جاتے۔اسلام کے سخت دشمن تھے اور مسلمانوں کو بہت تکلیفیں دیا کرتے۔ایک دن انہیں خیال آیا کہ روز روز کا جھگڑا ختم کیا جائے اور محمد ہی کوقتل کر دیا جائے۔یہ خیال آتے ہی تلوار ہاتھ میں لے کر گھر سے نکل پڑے۔ہم لوگ ان دنوں ارقم کے مکان میں ย 26 سیدنا بلال بلال ! تمہارا شکریہ۔اگر میرا وقت آ گیا ہے تو ابلتا ہوا پانی تو کیا ابلتا ہوا تیل بھی مجھے نہیں بچا سکتا۔عمر ابھی ارقم " کے گھر سے پچاس قدم دور ہوں گے کہ انہیں عبداللہ بن نعیم ملے۔پوچھنے لگے کہاں کا ارادہ ہے۔عمر نے جواب نہ دیا۔عبداللہ نے پھر پوچھا۔آخرنگی تلوار لے کر کہاں جا رہے ہو؟ عمر نے جواب دیا محمد کو ختم کرنے جارہا ہوں۔عبداللہ نے یہ سن کر کہا۔محمد کو قتل کرو گے تو عبد مناف کا سارا قبیلہ تمہارا دشمن ہو جائے گا۔یہ تو خیر بعد کی بات ہے پہلے اپنے گھر کی خبر تو لو تمہاری بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں۔یہ سنتے ہی عمر اپنی بہن فاطمہ کے گھر کی طرف چل پڑے۔اس وقت خباب ان کے گھر میں تھے اور میاں بیوی کو قرآن پڑھا رہے تھے۔جب عمر نے دروازے پر آکر آواز دی، تو فاطمہ نے خباب کو چھپا دیا اور وہ کاغذ بھی چھپا دیئے جن پر قرآن لکھا ہوا تھا۔فاطمہ نے دروازہ کھولا۔عمر غصے میں بھرے ہوئے اندر آئے اور کہنے لگے تم اپنے دین سے پھر گئے ہو اور تم نے نیادین اختیار کر لیا ہے۔یہ کہتے ہی اپنے بہنوئی سعید بن زید کو مارنے کے لئے جھپٹے۔فاطمہ انہیں بچانے کے لئے درمیان میں آگئیں اور اُن کے چہرے پر چوٹ لگی۔فاطمہ نے یہ سوچ کر کہ بات تو اب اکٹھے ہوا کرتے تھے۔میں نے عمر کو تلوار لے کر غصہ میں جاتے ہوئے دیکھا تو ان کے ارادہ کو سمجھ گھل ہی چکی ہے کہا۔عمر! ہاں ہم مسلمان ہو چکے ہیں تم سے جو ہو سکتا ہے کر لو ہم اسلام نہیں گیا اور رسول اللہ کو اس کی اطلاع دینے کے لئے ارقم کے مکان پر پہنچا۔اس وقت وہاں اور بھی مسلمان موجود تھے مگر کسی کے پاس کوئی ہتھیار نہ تھا۔میں نے رسول اللہ کو اطلاع دی۔آپ نے کہا بلال ! خدا جانتا ہے کہ عمر کب مسلمان ہوگا۔میں بہت گھبرایا ہو ا تھا۔میں نے ادھر اُدھر کوئی ہتھیار تلاش کیا مگر وہاں کچھ نہ تھا۔آگ پر پانی کا برتن اہل رہا تھا۔میں وہی اُٹھا کر دروازے پر چھوڑیں گے۔بہن کے چہرے پر بہتا ہو اخون اور اس کے لہجہ کی سچائی دیکھ کر عمر شرمندہ ہو گئے۔کہنے لگے اچھا جو تم پڑھ رہے ہو مجھے بھی دکھاؤ۔فاطمہ کہنے لگیں اگر ہم نے تمہیں وہ کاغذ دیئے تو تم پھاڑ دو گے۔عمر نے کہا میں کچھ نہیں کرتا تم دکھاؤ تو سہی! فاطمہ بولیں اس طرح نہیں یہ خدا کا پاک کلام ہے۔تم غسل کر کے پاک ہو جاؤ تو تمہیں دکھا دوں گی۔عمر نے غسل کیا اتنے میں غصہ بھی اتر