سیدنا بلالؓ

by Other Authors

Page 19 of 29

سیدنا بلالؓ — Page 19

سیدنا بلال 33 مدینہ کی طرف ہجرت والوں سے نسبتاً زیادہ آزادی سے ملتے اور اسلام کی باتیں سناتے۔ایک سال مکہ سے تقریباً اڑھائی سو میل دور ایک شہر سے جس کا نام یثرب تھا کچھ لوگ حج کرنے آئے۔یہ لوگ قبیلہ بنو خزرج سے تعلق رکھتے تھے۔رسول اللہ سے ان کی ملاقات ہوئی آپ نے انہیں اسلام کا پیغام سنایا اور بتایا کہ خدا ایک ہے۔اسی نے ہمیں پیدا کیا ہے اور وہی عبادت کے لائق ہے۔آپ نے انہیں خدا کا کلام سنایا۔آپ کی باتیں سن کر وہ بہت اچھا اثر لے کر واپس ہوئے۔یہ کل چھ آدمی تھے۔رسول اللہ نے ان کو کہا کہ جو کچھ تم نے سنا ہے وہ واپس جا کر اپنے بھائیوں کو بھی بتانا۔چنانچہ جب وہ واپس پہنچے تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ مکہ میں ایک آدمی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور وہ یہ یہ باتیں کہتا ہے۔مکہ والے اب سمجھ چکے تھے کہ ان کے ظلم مسلمانوں کو اسلام سے نہیں ہٹا سکتے۔کیونکہ باوجود ان کی تمام کوششوں کے مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔جو ایک دفعہ اسلام کی باتیں سن لیتا وہ انہیں قبول کر لیتا تھا۔اس لئے قریش اب اس فکر میں تھے کہ کونسا طریقہ اختیار کیا جائے۔جس سے مسلمان ختم ہو جائیں۔انہی حالات میں ایک سال اور گزر گیا۔اور پھر حج کے دن آگئے۔سارے عرب سے لوگ حج کے لئے مکہ آئے۔ایک دن رسول اللہ ملکہ کے قریب ایک جگہ عقبہ گئے اور وہاں یثرب سے آئے ہوئے لوگوں سے ملے۔ان میں پانچ وہ آدمی بھی تھے جو پچھلے سال رسول اللہ سے مل چکے تھے اور سات آدمی نئے تھے۔ان میں سے کچھ قبیلہ اوس کے آدمی تھے۔رسول اللہ نے انہیں اسلام کا پیغام سنایا اور اللہ تعالیٰ کا کلام ان کے سامنے رکھا۔ان بارہ آدمیوں نے رسول اللہ کی بیعت کر لی۔اس واقعہ کو بیعت عقبہ کہتے ہیں۔یثرب واپس پہنچ کر انہوں نے رسول اللہ کولکھا کہ کسی ایسے آدمی کو ہمارے پاس بھجوائیں جو ہمیں دین کی باتیں سکھائے۔رسول اللہ نے مصعب بن عمیر کو بیٹرب بھجوایا۔آپ نے وہاں جا کر مدینہ کی طرف ہجرت 34 سیدنا بلال بہت کام کیا۔وہ مسلمانوں کو دین کی باتیں سکھاتے اور دوسروں کو اسلام کا پیغام پہنچاتے۔خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھو کہ مکہ میں تو تیرہ سال میں بہت کم مسلمان ہوئے مگر یثرب کے لوگ اسلام کی طرف جلدی جلدی آنے لگے۔جب اگلے سال حج کا وقت آیا تو یثرب سے مصعب بن عمیر کے ساتھ ستر آدمی آئے جو یا تو مسلمان ہو چکے تھے یا مسلمان ہونا چاہتے تھے۔ایک دن رات کے وقت عقبہ میں ہی ان کی رسول اللہ سے ملاقات ہوئی۔قریش کے ڈر سے یثرب کے یہ آدمی ایک ایک کر کے وہاں جمع ہوئے تھے۔پھر رسول اللہ اپنے چا عباس کے ساتھ وہاں پہنچے۔عباس نے یثرب کے لوگوں سے کہا کہ د محمد ہم میں بہت معزز ہیں اور ہمیں بہت عزیز ہیں۔ان کے خاندان نے ہمیشہ ان کی حفاظت کی ہے مگر اب حالات یہ ہیں کہ یہ مکہ چھوڑ کر تمہارے پاس جانے پر مجبور ہیں۔اگر تم ان کو ساتھ لے جانا چاہتے ہو تو اچھی طرح سوچ لو اور نتائج پر غور کر لو۔اگر تم ان کی حفاظت کر سکتے ہو تو ٹھیک ہے اور اگر تم سمجھتے ہو کہ ان کی حفاظت نہیں کر سکتے تو اس ارادہ کو چھوڑ دو۔اس پر ان کے ایک سردار نے کہا۔"عباس ! ہم نے تمہاری بات سنی۔ہم اپنے ارادہ میں پکے ہیں۔ہماری زندگیاں رسول اللہ کی خدمت کے لئے ہیں۔اب اگر رسول اللہ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو فرمائیں۔رسول اللہ نے قرآن مجید کا کچھ حصہ پڑھا۔اسلام کے متعلق باتیں بیان کیں اور فرمایا! میں یہ چاہتا ہوں کہ اگر تم خدا کے رسول کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہو تو جس طرح تم اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح میری حفاظت کا ذمہ لو۔