سیدنا بلالؓ

by Other Authors

Page 27 of 29

سیدنا بلالؓ — Page 27

سیدنا بلال 49 مدینہ سے ہجرت اور وفات 50 آپ کی علالت اور غیر حاضری کے تصور سے درد کی جو کیفیت مجھ پر گزری وہ بیان سے باہر ہے لیکن اس سے بھی بڑا صدمہ ابھی ہمارا منتظر تھا اور پھر بالآخر 12 ربیع الاول لا کو پیر کے دن وہ واقعہ ہو گیا۔حضور اکرم کی وفات کیا ہوئی، ہماری تو دنیا اندھیر ہوگئی۔مدینہ تاریک ہو گیا اور ہمارا پیارا آقا! ہمیں الوداع کہہ کر اپنے محبوب حقیقی کے حضور حاضر ہو گیا۔حسان بن ثابت نے تو یہ شعر کہہ کر اپنی دلی کیفیت بیان کر دی کہ كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِي عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتُ أُحَاذِرُ و یعنی اے رسول! تو میری آنکھ کی پتلی تھا اور تیری وفات کے سبب میری آنکھیں اندھی ہوگئی ہیں۔اب تیرے بعد جو چاہے مرے مجھے تو تیری وفات کا خوف تھا۔جو واقع ہوگئی“۔لیکن میں جانتا ہوں کہ ہم سب کی یہی حالت تھی بلکہ شاید اس سے بھی کچھ بڑھ کر۔جس کا بیان الفاظ میں ناممکن ہے۔اسے صرف وہی دل جان سکتا ہے جو ایسی کسی کیفیت سے گزرے۔حضور کی وفات کے بعد مدینہ مجھے ایک ویرانے کی طرح لگتا تھا۔اور جب بھی میں باہر نکلتا تھا درد کی کیفیت بہت بڑھ جایا کرتی تھی کیونکہ مدینہ کی ہر گلی ہر موڑ سے مجھے اپنے آقا کی یاد آ جاتی تھی۔میرے لئے اب اس بستی میں رہنا ناممکن سا ہو گیا تھا چنانچہ ایک روز میں ہمت کر کے خلیفہ المسلمین حضرت ابو بکر صدیق کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ مجھے شامی سرحدوں کی طرف ہونے والے جہاد میں شرکت کی اجازت مرحمت فرمائیں تا کہ میرے دکھ میں کچھ کمی واقعہ ہو۔حضرت ابوبکر صدیق نے میری درخواست سنی اور پھر بڑی محبت سے مجھے مدینہ میں ہی رہنے کا ارشاد فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ اے بلال! اس بڑھاپے میں ہمیں جدائی کا داغ نہ دو۔اور یہیں مدینہ میں ہی رہو۔خلیفہ وقت کا یہ ارشاد سن کر میں نے اپنا ارادہ بدل دیا اور شام جانے کا خیال دل سے نکال دیا۔تا ہم حضوراکرم کی وفات کے بعد میں نے مسجد نبوی میں اذان دینا بند کر دی کیونکہ جب میں اذان میں اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ “ کہتا تھا تو رسول اللہ کو موجود نہ پا کر مجھ پر سخت رقت طاری ہو جاتی تھی۔اور میں اذان مکمل نہ کر پاتا تھا۔یہ محبت کی دنیا کے قصے ہیں۔عام آدمی ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتا لیکن ایک عاشق صادق اس بات کو بڑی اچھی طرح سے جان سکتا ہے۔حضرت ابوبکر صدیق کے ارشاد پر میں مدینہ میں رک گیا لیکن حضور اکرم کی وفات کے بعد میں نے اذان دینا بند کر دیا۔مدینہ سے ہجرت اور وفات حضرت بلال کی زندگی کے واقعات آپ نے سنے اور دیکھا کہ کس طرح ایک معمولی غلام کی زندگی سے وہ سیدنا بلال بنے۔حضرت ابو بکر صدیق کے ارشاد پر آپ مدینہ میں رک گئے لیکن اداسی اتنی تھی کہ آپ کے لئے مدینہ میں رہنا بہت مشکل تھا۔چنانچہ خلیفہ اول کی وفات کے بعد جب حضرت عمر خلیفہ بنے تو حضرت بلال نے ایک مرتبہ پھر اپنی درخواست آپ کے سامنے پیش کی۔آپ کی دلی کیفیات کو دیکھتے ہوئے حضرت عمر نے آپ کو شام کی طرف جانے کی اجازت دے دی اور آپ مدینہ سے رخصت ہو کر شام چلے گئے۔جہاں اسلامی لشکر کے ساتھ آپ نے بعض مہمات میں بھی حصہ لیا۔آپ نے ایک سے زائد شادیاں کیں لیکن آپ کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی۔سیدنا بلال کی وفات دمشق میں ۲۰ ھ میں قریباً ستر سال کی عمر میں ہوئی اور آپ کو باب الصغیر کے قریب ایک قبرستان میں دفن کیا گیا۔یہ قبرستان دمشق میں بہت معروف ہے۔اور زائرین کا ایک ہجوم سیدنا بلال کی قبر پر دعا کرنے کے لئے آتا ہے۔ہم خود بھی جب اس مزار مبارک پر حاضری دینے کے لئے پہنچے تو ایک