سیدنا بلالؓ

by Other Authors

Page 11 of 29

سیدنا بلالؓ — Page 11

سیدنا بلال 17 تربیت کا سفر تربیت کا سفر 18 سیدنا بلال سرداروں والی کوئی بات ان میں نہ تھی۔ان کا گھر بھی کوئی بڑا نہ تھا۔رہنا سہنا بہت سادہ اور بے تکلف تھا۔باتوں میں بڑے دھیمے اور مزاج کے نرم تھے۔جس سے بات کرتے اس کا دل موہ لیتے۔آپ مکہ کے کامیاب اور خوشحال تاجروں میں سے تھے لیکن اپنا مال دوسرے سرداروں کی طرح جوئے اور شراب اور دوسرے برے کاموں میں ضائع نہیں کرتے تھے۔رسول اللہ کے بچپن کے دوست تھے۔لیکن عمر میں چھوٹے تھے۔جب آپ نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا تو عورتوں میں سب سے پہلے خدیجہ اور مردوں میں ابو بکر آپ پر ایمان لائے۔جس وقت آپ مسلمان ہوئے آپ کے پاس چالیس ہزار درہم تھے یہ بہت بڑی رقم تھی اور جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں آپ اپنا مال نیکی کی راہوں پر خرچ کرتے اور ان غلاموں کو خرید کر آزاد کرتے تھے جو مسلمان ہو جاتے اور جنہیں ان کے کافر اور ظالم مالک مارا پیٹا کرتے۔مجھے بھی انہوں نے آزاد کرایا۔ابو بکر کے بارہ میں تھوڑی سی تفصیل اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ وہ میرے محسن تھے اور انہوں نے مجھے امیہ بن خلف کے ظلم سے آزاد کرایا تھا۔تربیت کا سفر ایک دفعہ کی بات ہے میں ابھی امیہ بن خلف کے لگائے ہوئے زخموں سے اچھا بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک دن آپ میرے لئے بکری کا دودھ دوہ کر لائے۔میں نے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مجھے آزاد کرایا ہے۔میں حیران ہو گیا کہ آپ الٹا میرا شکر یہ ادا کرنے لگ گئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ نے ہمیں بتایا ہے کہ غلام آزاد کرانے سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔پھر کہنے لگے بلال! میں نے تمہارے لئے ایک نیا کام سوچا ہے کیا تم اسے کرلو گے؟ یہ کام غلامی کے زمانہ کے کام سے زیادہ سخت ہوگا۔میں نے جواب دیا ہاں میرے آقا! میں ضرور کروں گا۔یہ سننا تھا کہ آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور مجھے یوں لگا کہ میرا جواب سن کر آپ کو تکلیف ہوئی ہے۔آپ نے دودھ کا برتن ہاتھ سے رکھ دیا۔میرا کان پکڑ کر اپنا م تھا میرے ماتھے سے لگا کر مجھے کہنے لگے۔بلال ! تم اب آزاد ہو تمہارا کوئی آقا نہیں۔آزادی سے جینا سیکھو تم کسی کے غلام نہیں ہو“۔میں سنبھل گیا اور کہا ہاں یہ درست ہے۔ابو بکڑ نے میرا کان چھوڑ دیا اور ہنس پڑے۔اسی وقت ایک بلی ابو بکر کے قریب آ کر آپ کے پاؤں پر لوٹنے لگی۔اور میاؤں میاؤں کر کے دودھ مانگنے لگی۔آپ نے علیحدہ برتن میں اس کا دودھ ڈال دیا اور وہ خوشی سے پینے لگی۔یہ دیکھ کر میں بڑا حیران ہوا کیونکہ میں تو شاید بلی کوٹھوکر مار کر بھگا دیتا۔اس سے مجھے خیال آیا کہ ابھی تو میں نے بہت کچھ سیکھنا ہے۔ابھی تو میں نے سچا مسلمان بننے کے لئے بہت کچھ کرنا ہے۔بلی کی بات سے مجھے ایک اور واقعہ یاد آ گیا۔یہ بہت بعد کی بات ہے۔ہجرت کے بعد جب تقریباً سارا عرب مسلمان ہو چکا تھا اور صرف مکہ کے قریش ہی کا فررہ گئے تھے۔رسول اللہ دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ کو فتح کرنے جارہے تھے میں بھی ساتھ تھا۔راستہ میں ایک جگہ ایک کتیا اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو لئے بیٹھی تھی آپ نے لشکر کو حکم دیا کہ وہ راستے سے ہٹ کر گزریں تا کہ اس کتیا اور اس کے بچوں کو تکلیف نہ ہو۔آپ انسانوں پر ہی نہیں جانوروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنے کی تعلیم دیتے تھے۔آپ کہا کرتے تھے اگر تم نے کسی پیا سے جانور کو پانی پلایا تو تم نے اپنے لئے جنت میں جگہ بنالی اور اگر تم نے کسی بے زبان جانور کو تنگ کیا تو خدا تم سے ناراض ہو جائے گا۔میں کہاں سے کہاں چلا گیا۔بات میں کر رہا تھا ابوبکر کی۔آپ نے مجھے سمجھایا کہ میں اب آزاد ہوں۔آزاد رہنے کے لئے مجھے کوئی کام سیکھنا