سیدنا بلالؓ — Page 1
سیدنا بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ دیباچه جنت میں جس کے قدموں کی چاپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنی ، عرش کا خدا جس کا أسهد أن لا اله الا اللہ سن کر خوش ہوتا ہے۔مکہ کے پہاڑ اور صحرا کی گرم ریت جس کی أحد، أحد کی آواز کو دبا نہ سکے اور جس حبشی غلام کو بڑے بڑے آقا اور سردار سیدنا بلال“ کہنے میں فخر محسوس کرنے لگے اسی بلال کی زندگی کی ایک جھلک پیش خدمت ہے۔بلال کا نام اس وقت تک زندہ رہے گا جب تک اسلام کا نام زندہ رہے گا اور اسلام کا نام قیامت تک کے لئے زندہ ہے۔بلال کی یاد اس وقت تک دلوں میں قائم رہے گی جب تک اللہ اکبر اللہ اکبر أشهد أن لا اله الا الله کی صدائیں میناروں سے گونجتی رہیں گی۔اور بلال کی احد، احد کی صدا مظلوموں اور مجبوروں کو ہمیشہ استقامت اور عزم و ہمت کے حوصلے دیتی رہے گی اور انہیں یہ نوید سناتی رہے گی کہ خدا اپنے سچے عاشقوں اور ایمانداروں کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔وہ خورشید کی مانند اس دنیا میں جیتے ہیں جو کبھی ڈوبتے نہیں۔اور ان کو ہمیشہ عزت اور فخر کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔وہ جو غلام ہوتے ہیں آقا بن جایا کرتے ہیں۔ان کے ناموں کو رفعتیں عطا کی جاتی ہیں وہ کبھی فنا نہیں ہوتے۔ایسے ہی ناموں میں سے ایک نام بلال ہے۔سیدنا بلال۔