سیدنا بلالؓ — Page 8
سیدنا بلال اور میں اس پر راضی تھا۔وه۔11 غلامی کی زنجیر کٹ گئی اسلام میں داخل ہونے والا پہلا غلام مجھے گلیوں میں گھسیٹتے ہوئے لئے چلے گئے۔ظلم آخر ظلم ہے اکثر لوگ اسے پسند نہیں کرتے۔گھروں کی کھڑکیاں بند تھیں۔لوگوں کو پتہ چل گیا کہ میں نے اپنے آقا کی حکم عدولی کی ہے اور یہی بغاوت ہے۔اور اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جاسکتا۔امیہ اپنی رقم کی قیمت وصول کرنا چاہتا تھا۔میں تو اس کی رقم تھا۔وہ اپنی رقم یوں کیسے پھینک دیتا۔اب میں اس کے کسی کام کا نہ تھا۔اب تو صرف میری کھال ہی اس کے کام کی تھی جو وہ ادھیڑ دینا چاہتا تھا تا کہ دوسرے غلاموں کے لئے عبرت ہو۔آج جب اس واقعہ کو پچاس برس گزرتے ہیں مجھے امیہ پر رحم آتا ہے۔جو دوسروں پر ظلم کرتا ہے اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔خدا ایک ہے میں اب انسان نہیں دو ٹانگوں والا جانور تھا۔مجھے زمین پر لٹا دیا گیا۔امیہ نے کوڑا تھام لیا۔پھر کیا ہوا۔درد کی کہانی ہے۔دیکھنے والوں نے جو دیکھا۔مجھے اپنی موت نظر آ رہی تھی۔لیکن خدا۔میرا خدا! بے انتہاء قدرتوں والا ہے۔امیہ میرے جسم کو کوڑے مار رہا تھا۔لیکن میری روح کو وہ کیسے کوڑا مار سکتا تھا۔مجھے آج بھی اپنی وہ آواز یاد ہے جس طرح میں نے خدا کو اس دن پکارا۔میں نے نماز کے لئے سینکڑوں نہیں ہزاروں بار مومنوں کو اذان دے کر اللہ کا نام لے کر بلایا ہے۔لیکن اس دن مجھے صرف ایک ہی بات یاد تھی۔میں ایک ہی لفظ کہہ رہا تھا۔اَحَدٌ اَحَدٌ “اللہ ایک ہے۔اللہ ایک ہے اور جب بھی میں اس کا نام لیتا۔وہ میرا خدا۔میرا اپنا اللہ میرے دل کو جواب دیتا۔اللہ کا جواب دلوں کو ہی ملا کرتا ہے۔میں کوڑے کھا رہا تھا لیکن میری زبان بند تھی اسے تالے لگ چکے تھے۔میں ان ظالموں سے رحم کی بھیک نہیں مانگ رہا تھا۔میں تو اللہ سے 12 سیدنا بلال اگر اس عذاب کے دوران میں کہیں مرجاتا تو امیہ کو بہت رنج اور افسوس ہوتا کہ اس کی رقم اتنی جلد ضائع ہو گئی۔امیہ مجھے مار مار کر تھک چکا تھا۔ہندہ ابوسفیان کی بیوی خوشبولگائے اٹھلاتی ہوئی آئی۔میں کوڑوں سے ادھ موا ہو چکا تھا۔لیکن میری زبان پر اللہ کا ہی نام تھا اور اس نے جھک کر میرے وہ الفاظ سنے تو ہنس کر بولی۔و یہ غلمٹا تو اب بھی اپنے ہی دین کا پرچار کر رہا ہے۔اور چلی گئی۔کوڑا پھر برسنے لگا۔موت کا مزا زندہ نہیں جانتے۔مرنے والا ہی جانتا ہے کہ موت کیا ہے۔اس دن میری تکلیفوں کا خاتمہ ہو گیا۔مجھے کوڑوں کی کوئی تکلیف محسوس نہیں ہو رہی تھی۔سینے پر چکی کا پاٹ رکھ دیا گیا۔میری پیٹھ گرم ریت سے جھلس گئی۔میرادم لبوں پر تھا۔میری زبان پیاس سے باہر نکل آئی اور امیہ نے کہا۔بلال کہہ کہ لات اور عزمی تیرے خدا ہیں۔تیرے دیوتا ہیں“۔میں نے جواب دیا۔احَدٌ اَحَدٌ" اور پھر میری آنکھیں بند ہوگئیں۔مجھے آسمان نظر آیا۔اور وہاں میں نے سرسبز وشاداب کھیت دیکھے۔پھلوں اور پھولوں سے لدے ہوئے باغ دیکھے اور میں اُن درختوں کے ٹھنڈے سائے میں بیٹھ گیا۔یہاں ہر قوم اور نسل کے مرد بھی اور عورتیں بھی پھر رہی تھیں اور ان سب کے سر فخر سے اونچے تھے اور پھر وہ مجھے ایک چشمہ پر لے گئے اور میں نے جی بھر کر ٹھنڈا پانی پیا اور میری ساری پیاس بجھ گئی اور میں اپنے اللہ کے اور بھی قریب ہو گیا۔مانگ رہا تھا۔