سیدنا بلالؓ — Page 20
سیدنا بلال 35 آنحضور کی ہجرت مدینہ آنحضور کی ہجرت مدینہ 36 سیدنا بلال آپ کے خاموش ہونے پر یشرب سے آئے ہوئے آدمی بے اختیار کہہ اٹھے۔”ہم اپنی جانوں اور اپنے مال کی قربانی دے کر بھی آپ کی حفاظت کریں گئے۔اس کے بعد ان نشتر افراد نے رسول اللہ کے ہاتھ پر باری باری بیعت کی۔ہم اسے عقبہ کی دوسری بیعت کہتے ہیں۔جب یہ لوگ واپس جانے لگے تو رسول اللہ نے بارہ آدمی مقرر کئے جوان کے نگران بنائے گئے۔آپ نے ان کو یہ نصیحت بھی کی کہ خدا کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا۔اب جب میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور ماضی کی طرف نظر ڈالتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے عقبہ کی یہ بیعت اس اندھیری رات میں چھپ چھپ کر آنے والے ستر افراد کی بیعت نہ تھی بلکہ ایک نئے دور کی ابتدا تھی۔مدینہ کی طرف ہجرت یثرب میں مسلمانوں کی کافی تعداد ہو چکی تھی۔دوسری طرف مکہ میں کافروں کے ظلم میں زیادتی ہوتی جارہی تھی۔اس لئے رسول اللہ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ایک ایک دو دو کر کے میٹرب کی طرف چلے جائیں۔مسلمان آہستہ آہستہ بیٹرب روانہ ہونے لگے۔ایک دن میں نے بھی جانے کا ارادہ کیا۔میرے ساتھ چھ مرد ، دوعورتیں اور تین بچے بھی تیار ہوئے۔رسول اللہ نے مجھے اس چھوٹے سے قافلہ کا امیر بنایا۔یہ لمحہ میرے لئے ایک عجیب لمحہ تھا۔میں جو امیہ بن خلف کا ایک حبشی غلام تھا۔ہر ایک سے مار کھانا ہر ایک کی جھڑکیاں سننا جس کی قسمت تھی۔آج ایک چھوٹے سے مگر آزادلوگوں کے گروہ کا امیر تھا۔اگر یہ انقلاب نہیں تو اور کسے انقلاب کہتے ہیں۔اڑھائی سو میل کا لمبا سفر ہم نے پیدل طے کرنا تھا۔سارا راستہ ریگستان تھا۔ہر طرف ریت ہی ریت تھی۔گرمی زوروں پر تھی۔اگر ہم جلدی بھی کرتے تو دن سے پہلے اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتے تھے۔لیکن ہمارے ساتھ تو بچے اورعورتیں بھی تھیں۔عجیب بات ہے کہ سخت گرمی کے باوجود یہ سفر ہمیں کوئی مشکل نہ لگا۔تکلیفیں تو ضرور آئیں۔بچے بیمار ہوئے۔ہمارے ایک ساتھی کے پاؤں پر زخم بھی ہو گیا۔جو اس نے مجھ سے چھپائے رکھا اور جب مجھے اس زخم کا پتہ لگا تو اس نے اپنی رفتار اور تیز کر دی اور ہم سے آگے آگے چلنے لگا۔جب ہم یثرب پہنچے تو اس کی حالت اچھی نہ تھی۔اور زخموں کی وجہ سے وہ میرے کندھے کا سہارا لے کر شہر میں داخل ہوا۔ان ساری باتوں کے باوجود ہم نے اپنا سفر جاری رکھا اور آخر وہ دن بھی آ گیا۔جب ہم میٹر ب پہنچ گئے۔یہ ہے ہماری ہجرت کی کہانی۔یہ سفر تمہیں تو شاید ایک معمولی سا سفر ہی لگے لیکن مجھے ہمیشہ یادر ہے گا۔اگر چہ اس کے بعد میں نے یثرب سے مکہ کے کئی سفر کئے ہیں اور اب تو ہزاروں لوگ یہ سفر کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے لیکن ہمارا سفر کچھ اور ہی رنگ کا تھا۔ہم جو کافروں کے ظلم کے ستائے ہوئے اپنی جان اور جان سے بڑھ کر اس پیغام کی حفاظت کی خاطر جو خدا کا پیغام ہے، ہمارے پیدا کرنے والے کا پیغام ہے، اپنے وطن کو چھوڑ کر جارہے تھے۔ہم خالی ہاتھ تھے لیکن ہمارے پاس دونوں جہان کی دولت سے زیادہ مال تھا۔تم پوچھو گے یہ مال کیا تھا، یہ وہ پیغام تھا جو خدا نے ساری دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا تھا۔اسی لئے یہ سفر ایک ایسا سفر تھا جو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔جب تک دنیا قائم ہے۔ریت کے اس صحراء کے نیچے ہمارے قدموں کے نشان قائم رہیں گے جو کبھی مٹ نہیں سکتے۔یہ ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ایک زمانہ کی ابتداء تھی جب تک اسلام باقی ہے اور جب تک مسلمان اس دنیا میں آباد ہیں وہ اپنے اپنے وقت کا اندازہ ہمارے قدموں کے نشانوں سے کرتے رہیں گے۔ہمارے آنے کے بعد آہستہ آہستہ اور مسلمان بھی ہجرت کر کے آتے رہے اور مکہ میں