سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 565
565 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ علیہ الصلوۃ والسلام بھی آپ سے محض اس لئے محبت نہ کرتے تھے کہ وہ حضور کی زوجہ تھیں بلکہ وہ حضرت سیدہ کو خدا تعالیٰ کا ایک نشان رحمت اور شعائر اللہ میں سے یقین کرتے تھے بلکہ بہت سے نشانات کا آپ مجموعہ ہیں اور بہت سے نشانات خود آپ کے ذریعہ ظاہر ہوئے۔میں نے پیچھے حضرت ممدوحہ کی قربانیوں کا مختصر سا ذکر کیا ہے اور میں نے بتایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں آپ ہر تحریک میں شریک ہوئی تھیں اور دینی ضروریات کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس وقت کے لحاظ سے ایک کثیر رقم اپنے زیورات بیچ کر قرضہ دیا ( وہ صرف حضرت مسیح موعود کے ارشاد کی تعمیل میں ورنہ آپ تو نذر کر رہی تھیں) آپ کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے حج بدل کرا دیا اور پھر خلافت اولیٰ اور خلافت ثانیہ میں آپ کا ہاتھ بہت لمبا ہے اور دل بہت وسیع ہے۔یہاں جس واقعہ کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وفات کے وقت کچھ مقروض تھے یہ قرضہ اگر جماعت ادا کرتی تو اس کا فرض تھا۔کوئی شخص واحد جو آپ کے دامن سے وابستہ تھا اس سعادت کو حاصل کرتا تو اس کو خوش قسمتی پر رشک ہوتا۔مگر یہ سعادت صرف حضرت ام المؤمنین کے حصہ میں آئی۔اس کے متعلق میں حضرت امیر المومنین مصلح موعود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے بیان کو درج کرتا ہوں اسے پڑھ کر حضرت امیر المومنین کی اولوالعزمی اور علو ہمتی پر بھی روشنی پڑتی ہے اور حضرت اُم المؤمنین کے متعلق حضرت امیر المومنین کا بیٹا ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک مخلص اور متقی احمدی ہونے کی حیثیت سے جو ایمان ہے وہ واجب التقلید ہے۔حضرت امیرالمومنین نے بار ہا فرمایا ہے کہ انہوں نے اسلام یا احمدیت کو محض اسی لئے قبول نہیں کیا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں پیدا ہوئے تھے بلکہ خود اپنی ذاتی تحقیقات اور خدا تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے علم ومعرفت اور بصیرت کی بناء پر اسی طرح وہ حضرت ام المؤمنین کی عظمت و محبت اپنے دل میں صرف اس لئے نہیں رکھتے کہ وہ آپ کی والدہ تھیں بلکہ ان کے اپنے مقام کی وجہ سے۔غرض اس کارنامہ کو اب خود امیر المومنین کے الفاظ میں پڑھو۔آپ نے ایک خطبہ جمعہ میں جو ۰ ۱ مارچ ۱۹۴۴ء کو دیا اپنے خاندان کو خاص خطاب کیا۔اس سلسلہ میں اپنے اہل خاندان کو خدمت دین کے لئے زندگی وقف کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: خدا ہم سے یہ نہیں چاہتا کہ ہم کچھ وقت دین کو دیں اور باقی وقت دنیا پر صرف کریں۔بلکہ خدا