سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 536 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 536

536 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خلافت کا مسئلہ ضمنا آ گیا۔میں بتا یہ رہاتھا کہ حضرت ام المؤمنین نے سلسلہ کے لئے کیا قربانیاں کی ہیں اور مسئلہ خلافت کے متعلق حضرت ائم المؤمنین کا طریق عمل بھی ان کے نفس اور جذبات کی قربانی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ظاہر کر رہا ہے۔یہ بات یہاں تک ہی نہیں بلکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مرتبہ حضرت اُم المؤمنین سے فرمایا کہ بعض انگریز مولوی محمد علی صاحب سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے (حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا جانشین کسی کو بنایا ہے کیا میں محمود کا بقیہ حاشیہ: بولتے تھے۔ایک دو دفعہ کروٹ بدلنے پر آنکھ کھولی۔میری طرف دیکھا۔میں نے سلام علیک کہا۔آپ نے کہا وعلیکم السلام۔چھ بجے کے قریب ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کو کہا کہ میری آواز نہیں نکلتی۔یہ ہم نے بخوبی سمجھا۔پھر کوئی ساڑھے سات بجے اٹھ کر بیٹھے اور قلم دوات منگوائی اور ایک پرچے پر لکھا جو باہر جا کر پڑھا تو یہ لکھا تھا کہ ” تکلیف یہ ہے کہ آواز نہیں نکلتی۔اتنا حصہ صاف پڑھا گیا چونکہ کچھ اتفاق سے سیاہی خراب اس پر قلم بھی خراب۔نیچے رکھنے کے لئے چیز بھی جلدی میں نہ دی گئی آخری نصف سطر نہ پڑھی گئی۔آٹھ بجے کے بعد پھر جو ریلیپس * ہوا ہے۔پھر طبیعت نہیں سنبھلی۔آخر ساڑھے دس بجے انتقال فرمایا۔انا لله وانا اليه راجعون۔حضرت ام المؤمنین نے وہ صبر دکھلایا کہ باید و شاید جب حضرت کا دمِ واپسیں تھا۔اس وقت آپ نے فرمایا کہ اے اللہ یہ تو ہمیں چھوڑتا ہے تو ہمیں نہ چھوڑ یو۔“ اور جب حضرت اقدس نے انتقال فرمایا تو فرمایا انا لله وانا اليه راجعون اور بس خاموش ہو گئے۔اور کسی کو رونے نہیں دیا۔بعد انتقال حضرت تمام جماعت نے نہایت صبر دکھلایا اور تھوڑے وقفہ بعد تمام موجودہ جماعت کے آدمی یکے بعد دیگرے آئے اور حضرت اقدس کی پیشانی پر بوسہ دیتے گئے۔ڈاکٹروں نے مرض تشخیص کی کہ اسہالوں کی وجہ سے امعاء میں سوزش ہوئی اور حضرت اقدس کو دل گھٹنے اور برداطراف کا جو دورہ ہمیشہ ہوتا تھا وہ سخت پڑا۔اس لئے انتقال ہوا۔حضور علیہ السلام کا مسودہ مضمون دیکھا گیا۔تو اصل بات حضرت ختم کر چکے تھے۔بعد انتقال حضرت اقدس ہم لوگ ذرا باہر بیٹھے اور شیخ رحمت اللہ صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب اور ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب سول سرجن مسٹر بینھم کے پاس سرٹیفکیٹ کے لئے گئے۔سرٹیفکیٹ ملنے پر جس میں سول سرجن نے صاف لکھا تھا کہ حضرت اقدس نے امعاء کی خراش سے انتقال کیا ہے۔پھر جنازہ کے لئے جانے اور ریل کی گاڑیوں کا انتظام کیا گیا۔مجھے کو بھی چونکہ جنازہ کے ساتھ جانا تھا۔میں اپنی کوٹھی پر آیا اور سامان سفر کرنے آیا اس وقت کوئی دو بجے تھے۔اس کے بعد کوئی تین بجے پھر خواجہ صاحب کے مکان پر پہنچا۔وہاں جنازہ پڑھا گیا تھا۔حضرت اقدس کی شکل نہایت منور تھی اور کسی قدر سرخی بھی رخساروں پر تھی۔مستورات چار بجے روانہ ہو گئیں۔پھر جنازہ اس کے بعد ٹھایا گیا۔اسٹیشن پر پہنچ کر صندوق گاڑی میں رکھ کر اس میں پانچ من برف ڈالی گئی اور پھر حضرت اقدس کو صندوق میں رکھا گیا۔کیونکہ اسٹیشن تک چار پائی پر حسب معمول جنازہ لایا گیا تھا۔صندوق میں بند نہ کیا گیا تھا۔ے نقل مطابق اصل یہ مسودہ مضمون یعنی لیکچر پیغام صلح کا مسودہ۔Relapse