سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 531
531 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سے کافی امداد دی جاوے۔لیکن آج تک جو ے ا ذلحجہ (۱۳۲ھ کوئی راہ ایسی نہیں نکلی کہ سوا معمولی کھانے پینے کے کوئی مالی نقد یا کپڑوں یا ضروری مکان بنا دینے کی امداد میں یا صد را انجمن احمد یہ قادیان کر سکی ہو۔حضرت صاحب کے وقت میں میں عمدہ سے عمدہ کھا نالنگر سے آیا ہوا اپنے سامنے دیکھتا تھا اور وہ سب کچھ حضرت صاحب کے صبح و شام کی تاکیدات کا نتیجہ تھا۔حضرت بیوی صاحبہ نے جو میرے ایسے حالات سے زیادہ تر واقف ہیں ایک بار کچھ نقد روپیہ بہت ہی الحاح کے ساتھ دیا اور یہ کہا کہ یہ صرف تیرے کھانے کے لئے ہے اور ساتھ ہی کچھ روپیہ دیا کہ اس کو لنگر میں آپ داخل کر دیں مگر دوسرے حصہ سے نہ دیں سے حضرت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت اُم المؤمنین اولاً اسی تقریر میں آگے چل کر حضرت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہو "میاں۔۔۔میاں شریف احمد۔۔کے لئے ایک مکان کی ضرورت تھی سو اُس کو انہوں نے جن مشکلات سے بنایا ہے اُن کو وہ سمجھتے ہیں جن کو باہر سے کوئی روپیہ نہ دیا گیا ہو اور پھر مکان بھی بنانا پڑے۔مگر میں یا صدرانجمن یا لنگر اس امداد میں شریک نہیں ہو سکے۔پھر فرماتے ہیں : ”حضرت صاحب کے وقت کس قدر روپیہ بچتا تھا اس کا پتہ اس سے لگ سکتا ہے کہ آپ کے بعد آپ کے ذمہ پانچ سو کا قرضہ تھا جس کو کسی چندہ اور آمدنی سے ادا نہیں کیا۔وہ ادا تو ہوا مگر ایسے راہ سے ادا ہوا کہ اُس میں کسی چند وره ی عام مرید یا کسی یک مشت مخفی طور پر دینے والے نے اس میں شرکت نہیں کی۔حضرت خلیفہ مسیح الاول نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جس قرضہ کا ذکر کیا ہے اس کی ادا ئیگی بھی جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے حضرت ام المؤمنین نے کی۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فوت ہوئے ہیں اُس وقت آپ پر کچھ قرض تھا۔آپ نے یہ نہیں کیا کہ جماعت کے لوگوں سے کہیں کہ حضرت مسیح موعود پر اس قدر قرض ہے ادا کر دو۔بلکہ آپ کے پاس جو زیور تھا اُسے آپ نے بیچ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قرض کو ادا کر دیا۔