سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 506 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 506

506 بسم الله الرحمن الرحيم سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ (۴۴) حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت صاحب شروع دعوی مسیحیت میں دہلی تشریف لے گئے تھے اور مولوی نذیرحسین کے ساتھ مباحثہ کی تجویز ہوئی تھی۔اُس وقت شہر میں مخالفت کا سخت شور تھا۔چنانچہ حضرت صاحب نے افسران پولیس کا انتظام کر کے ایک پولیس مین کو اپنے طرف سے تنخواہ دینی کر کے مکان کی ڈیوڑھی پر پہرہ کے لئے مقرر کر لیا تھا۔پولیس مین پنجابی تھا اس کے علاوہ ویسے بھی مردانہ میں کافی احمدی حضرت صاحب کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے۔بسم الله الرحمن الرحيم (۴۵) حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک (دفعہ ) ابتدائی زمانہ میں احباب کے جمع ہونے کی وجہ سے ایک جلسہ کی سی صورت ہوگئی اور لوگوں نے خواہش کی کہ حضرت صاحب کچھ تقریر فرمائیں جب آپ تقریر کیلئے باہر تشریف لے جانے لگے تو فرمانے لگے کہ مجھے تو تقریر کرنی نہیں آتی۔میں جا کر کیا کہوں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے جو یہ کہا تھا کہ لَا يَنْطَلِقُ لِسَانِی اس کا بھی یہ مطلب تھا کہ میں تقریر کرنا نہیں جانتا۔مگر خدا جس کو کسی منصب پر کھڑا کرتا ہے اس کو اس کا اہل پا کر ایسا کرتا ہے اور اگر اس میں کوئی کمی بھی ہوتی ہے تو اسے خود پورا فرما دیتا ہے۔چنانچہ جب موسیٰ علیہ السلام فرعون کے دربار میں پہنچتے ہیں تو آپ کی زبان ایسی چلی کہ حضرت ہارون جن کو وہ اپنی جگہ منصب نبوت کے لئے پیش کر رہے تھے گویا بالکل ہی پس پشت ہو گئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا نے وہ تقریر کی طاقت دی کہ دنیا داروں نے آپ کی سحر بیانی کو دیکھ کر یہ کہنا شروع کیا کہ اس شخص کی زبان میں جادو ہے۔بسم الله الرحمن الرحيم (۴۶) حضرت والدہ صاحبہ یعنی اُم المؤمنین اطال الله بقائہا نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مرزا نظام الدین صاحب کو سخت بخار ہوا۔جس کا دماغ پر بھی اثر تھا۔اس وقت کوئی اور طبیب یہاں نہیں تھا۔مرزا نظام الدین صاحب کے عزیزوں نے حضرت صاحب کو اطلاع دی اور آپ فوراً وہاں تشریف لے گئے اور مناسب علاج کیا۔علاج یہ تھا کہ آپ نے مرغا ذبح کر کے سر پر باندھا۔جس سے فائدہ ہو گیا۔اس وقت با ہمی سخت مخالفت تھی۔