سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 505
505 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تھیں۔نیز والدہ صاحبہ نے بیان فرمایا کہ جب مبارکہ پیدا ہونے لگیں تو حضرت صاحب نے دعا کی تھی کہ خدا اسے منگل کے ( شدائد والے ) اثر سے محفوظ رکھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ دن اپنی تاثرات اور افاضہ برکات کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحفہ گولڑویہ میں مفصل بحث کی ہے یہ تاثرات قانون نیچر کے ماتحت ستاروں کے اثر کا نتیجہ ہیں۔بسم الله الرحمن الرحيم (۴۳) حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جب مبارک احمد فوت ہو گیا اور مریم بیگم جس کے ساتھ اس کی شادی ہوئی تھی بیوہ رہ گئی تو حضرت صاحب نے گھر میں ایک دفعہ یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ یہ لڑ کی ہمارے گھر میں ہی آجاوے تو اچھا ہے۔یعنی ہمارے بچوں میں سے ہی کوئی اس کے ساتھ شادی کر لے تو بہتر ہے۔چنانچہ خاکسار عرض کرتا ہے کہ زیادہ تر اسی بناء پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مریم بیگم سے شادی کی ہے۔نیز والدہ صاحبہ بیان کرتی تھیں کہ جب حضرت صاحب کے سامنے تم لڑکوں کی شادی کی تجویز ہوتی تھی اور کبھی یہ خیال ظاہر کیا جاتا تھا کہ فلاں لڑکی کی عمر لڑکے کی عمر کے قریباً قریباً برابر ہے جس سے بڑے ہو کر لڑکے کو تکلیف کا اندیشہ ہے۔کیونکہ عموماً عورت جلد بوڑھی ہو جاتی ہے اور مرد کے قومی دیر تک قائم رہتے ہیں تو حضرت صاحب فرماتے تھے کہ کوئی حرج نہیں ہے اگر ضرورت ہوگی تو بڑے ہو کر بچے اور شادی کر لیں گے۔نیز والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ حضرت صاحب اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ اسلامی حدود کوملحوظ رکھتے ہوئے احمدی زیادہ شادیاں کریں تا کہ نسل جلدی جلدی ترقی کرے اور قوم پھیلے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیشک نسل کی ترقی کا یہ ایک بہت عمدہ ذریعہ ہے اور نیز اس طرح یہ فائدہ بھی حاصل ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحبت یافتوں کو اپنے سامنے زیادہ بچوں کی تربیت کا موقعہ مل سکتا ہے۔جو قومی فلاح و بہبودی کے لئے بہت ضروری ہے لیکن تعدد ازدواج کے متعلق عدل و انصاف کی جو کڑی شرطیں اسلام پیش کرتا ہے ان کا پورا کرنا بھی ہر کس و ناکس کا کام نہیں۔ہاں جن کو یہ توفیق حاصل ہو اور ان کو کوئی جائز ضرورت پیش آ جائے وہ بے شک زیادہ بیویاں کریں تا کہ علاوہ ان فوائد کے جو اوپر بیان ہوئے ہیں۔یہ فائدہ بھی حاصل ہو کہ ایسے لوگوں کے نیک نمونے سے وہ باطنی اور بدگمانی دور ہو جو بعض لوگوں کے بد نمونے کے نتیجہ میں تعدد ازدواج کے متعلق اس زمانہ میں خصوصاً حلقہ نسواں میں پیدا ہورہی ہے۔