سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 445
445 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مشاہدہ کیا کہ وہ میری تکلیف کو اپنی تکلیف محسوس کرتے تھے اور ان کے اختیار واقتدار میں ہوتا تو میرے لئے ہر قربانی کرتے۔صاحبزادگان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکثر میری عیادت کو آتے رہتے اور حضرت اُم المؤمنین تو بلا ناغہ میری عیادت کے لئے محترمہ مائی کا کو کو بھیجتی رہتی ہیں اور وقتا فوقتاً اپنے تبرکات سے بھی معزز فرماتی ہیں۔میں ایک واقعہ کو بھی بھول نہیں سکتا اور کیسے بھول سکتا ہوں جو میرے لئے میرے خاندان کے لئے وہ باعث فخر و ناز ہے اور یہ حضرت اُم المؤمنین کی غریب نوازی کی ایک شان۔میں لا ہور گیا ہوا تھا اور مکر می اختر صاحب کے ہاں فروکش تھا۔اختر صاحب اللہ تعالیٰ ان پر بڑے بڑے کرم اور فضل کرے مہمان نواز، کشادہ دل بھائی ہیں اور میرے ساتھ ان کو بچپن سے محبت ہے وہ ایک عبد شکور ہیں۔حضرت اُم المؤمنین کا قیام بھی وہیں تھا۔میں ایک دن قادیان کے لئے تیار ہوا اور حضرت اُم المؤمنین کو علم ہوا تو آپ نے فرمایا: محمود میں نے تو فیصلہ کیا تھا کہ میں تمہارے ساتھ جاؤں گی اور تم آج جا رہے ہو۔میں نے عرض کیا کہ حضور میں آج نہیں جاتا جب آپ تشریف لے چلیں گی تب جاؤں گا۔فرمایا تم تو ہمارے ہو۔میں اس شفقت اور عزت افزائی کو کبھی نہیں بھول سکتا۔میری روح میں وجد کی کیفیت پیدا ہوگئی کہ حضرت اُم المؤمنین فرماتی ہیں تم تو ہمارے ہو۔حضرت والد صاحب قبلہ حضرت میر صاحب کا ایک واقعہ سنایا کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور حضرت میر صاحب جھگڑ پڑے۔حضرت میر صاحب نے بڑے جوش سے فرمایا کہ تم ہمارے غلام ہو۔والد صاحب فرماتے ہیں کہ میرا سارا جوش ٹھنڈا ہو گیا اور میں نے کہا: مجھے اور میری نسل کو اس غلامی پر حقیقت میں یہ حضرت اُم المؤمنین کی خادم نوازی اور اس کی تربیت روحانی کا ایک رنگ تھا۔حضرت والد صاحب سے جب میں نے اس واقعہ کا ذکر کیا تو بے حد متاثر ہوئے خوشی کے آنسوان کی آنکھوں سے گرنے لگے اور کہا محمود شفقت و کرم کے یہ مظاہرے ہی تو مایۂ حیات ہیں اور پھر دیر تک اپنی خوشی کا اظہار کرتے رہے کہ مجھے اس سے خوشی ہوئی کہ حضرت اُم المؤمنین تمہیں اپنا سمجھتی ہیں اور ہم انہی کے تو ہیں۔شفقت اور کرم جو روح اطاعت و وفاداری پیدا کر سکتی ہے۔دوسری کوئی چیز اتنی موثر