سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 423
423 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ (۳) آپ کے پاس ہر وقت کوئی نہ کوئی خاتون ملنے آئی ہوتی ہیں اور تقریباً جب بھی میں گئی ہوں ان خواتین سے ہمارے خاندان کا تذکرہ فرماتیں اور اس بات کا بھی اکثر اظہار فرماتی ہیں کہ اس کی بڑی بہن کا میاں میرے سسرال کے شہر کا رہنے والا ہے اور اس کا میرے میکے کا۔مجھے حضرت اماں جان سلمہا کی اس دلداری، اس نوازش کا اس وقت بھی بلکہ آج تک بھی اور انشاء اللہ عمر بھر ہی اس کا اثر اور احساس رہے گا جب بھی میں ان الفاظ کا۔اس اظہار خوشی اور محبت کا تصور کرتی ہوں میرے لئے وہ نظارہ عجیب از دیا دایمان کا موجب ہوتا ہے اور میرا دل مسرت اور درد بھرے جذبات کے طوفان سے بھر جاتا ہے اور میں سوچنے لگتی ہوں کہاں ہم خانہ ویراں کہاں یہ حضرت ذی شاں“ ہزاروں انسان سیالکوٹ میں بستے ہیں اور ہزاروں کرنال میں لیکن میرے خدا کو دوغریب خاندان کے لڑکوں کو کس طرح نواز نا منظور تھا کہ آپ سے اس کا بار بار اظہار فرما کر سارے دلوں کو دنیوی عزت و دولت سے بے نیا ز فرمایا اور اس جاودانی دولت اور فخر سے ہمارے دلوں اور روحوں کی تسکین فرمائی۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں۔اکثر لوگ اپنے غریب رشتہ داروں کو اپنا رشتہ دار کہتے شرماتے ہیں اور کوئی دولت مند اور بڑا آدمی ہو اور اس کا ڈور کا بھی رشتہ ہو تو کہتے ہیں یہ ہمارا رشتہ دار ہے، عزیز ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کے پیارے بندوں کی شان کیسی نرالی اور کیا ہی عجیب ہوتی ہے؟ سچ ہے بیان سے بالا اور ترقیم سے اعلیٰ ! ہاتھ سے کام کرنا (۴) میں نے حضرت اماں جان سلمہا کو اپنے ہاتھ سے گھر میں کام کرتے دیکھا ہے۔آپ کی صحت اکثر نا ساز رہتی ہے۔باوجود اس کے جب بھی کچھ طبیعت اچھی ہوتی ہے آپ باورچی خانہ میں دیکھ آتی ہیں۔ایک دفعہ آپ کو سبزی بھی بناتے دیکھا ہے۔اتنی ضعیفی اور بیماری کے باوجود آپ کا اپنے ہاتھوں سے کام کرنا ہمارے لئے ایک نمونہ ہے۔خدا تعالیٰ نے آپ کو دینی اور دنیوی ہر قسم کی آسائش اور آرام کے سامان دیئے ہیں۔لیکن باوجود اس کے جب بھی آپ کی طبیعت ٹھیک ہوتی ہے اپنے گھر کی دیکھ بھال خود ہی فرماتی ہیں۔