سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 422
422 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ آپ نے میری بڑی بہن سلیمہ بیگم صاحبہ سے پوچھا کہ اس کا نکاح کہاں ہوا ہے اور ساری باتیں تفصیل سے دریافت فرمائیں۔میری بہن نے جب یہ بتلایا کہ لڑکا کرنال کا رہنے والا ہے تو اس پر آپ بہت خوش ہوئیں اور بڑی محبت اور مسرت سے فرمایا کہ ”چلو ایک بہن کا میاں میرے سسرال ( خلیل احمد صاحب جو سیالکوٹ کے ہیں ) اور اس کا میرے میکے کا ہے میرے سسرال سے اس وقت ایک انگوٹھی ، رومال اور روپے آئے تھے۔حضرت اماں جان سلمہا سے درخواست کی گئی کہ آپ دعا فرما کر انگوٹھی پہنائیں۔آپ نے از راہ نوازش منظور فرما لیا اور دوسرے روز مغرب کی نماز کے بعد حضرت آپا جان صاحبہ یہ چیزیں اور مجھے آپ کے پاس لے گئیں آپ نے تمام گھر والوں کو بلا بھیجا۔ساروں کے آنے کے بعد دعا فرمائی اور اپنے ہاتھ سے مجھے انگوٹھی پہنائی۔شفقت دعا (۲) اس کے دو تین دن بعد کا واقعہ ہے کہ میری بھانجی امتہ الرشید کی منگنی ہوئی اس دن بھی دعا فرمانے کے بعد آپ نے اس کو اپنے ہاتھ سے انگوٹھی پہنائی اور فرمایا : ” میں نے اس کے لئے اس کے ابا کے لئے اس کے دولہا کے لئے اور اس کے نانا ( سیٹھ محمد غوث صاحب) کے لئے دعا کی ہے۔“ اس کے بعد اپنے ہاتھ سے اس کو اور مجھے میٹھے چاول کھلائے اور اس پر مزید شفقت یہ کہ اس دن رات کا کھانا بھی ہمیں آپ نے ہی کھلایا۔الحمد للہ اس سال میں دس ماہ قادیان میں رہی۔چونکہ میری بھانجی وہیں بیاہی گئیں۔اس لئے اس دفعہ میں ان کے پاس تھی۔میں جب بھی حضرت آپا جان کے گھر جاتی تو حضرت اماں جان سلمہا سے بھی مل کر آتی۔آپ کو اکثر مجھ پر دھوکا لگتا اور مجھے بھانجھی امتہ الحفیظ صاحبہ اہلیہ خلیل احمد صاحب ناصر ) سمجھ کر پوچھتیں۔” تمہاری لڑکی کیسی ہے۔“ جب میں بتلاتی نہیں ”اماں جان میں ہوں امتہ الحی۔آپ کھلکھلا کر ہنس پڑتیں اور فرما تیں۔” مجھے تم دونوں بہنوں پر بہت دھوکا لگتا ہے۔تم آتی ہو تو مجھتی ہوں حفیظ ہے اور حفیظ پر تمہارا شبہ ہوتا ہے“۔ہو کے کرنال چونکہ دلی کے قریب ہے اس لئے اُسے اپنا میکہ فرمایا اور ے کالج سیالکوٹ کو چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا وطن ثانی قرار دیا ہے اس لئے اُسے اپنا سسرال فرمایا۔