سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 416
ہمیشہ نصیحت فرمایا کرتی ہیں کہ : 416 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اپنے خاوندوں کو تنگ نہ کیا کرو“ یہ ایک مختصر اور جامع بیان مائی امام بی بی کا ہے جسے میں نے اس کے اور اپنے ملے ہوئے الفاظ میں لکھ دیا ہے۔لیکن حضرت ام المؤمنین کی سیرت اور اندرون خانہ زندگی کا ایک دلچسپ نقشہ ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس طرح پر عورتوں کی تربیت فرمایا کرتی ہیں۔عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب مل کر بیٹھتی ہیں تو ادھر ادھر کے قصے شکوے شکائیتیں اور غیبت وغیرہ مختلف امراض کا شکار ہو جاتی ہیں آپ یہ فرما کر کہ جس بات کے لئے آئی ہو اس کے سوا اور بات نہ کرو۔ان ساری امراض سے نجات دلا دیتی ہیں۔فرائض زوجیت کا بہترین نمونہ پیش کرتی ہیں اور مستورات کو نصیحت فرماتی ہیں کہ خاوندوں کو تنگ نہ کیا کرو۔آپ کی طبیعت میں قناعت کا عملی رنگ موجود ہے۔ضرورت ہے کہ ہمارے گھروں میں یہ روح پیدا ہو۔حضرت اُم المؤمنین کی زندگی کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی شان نظر آتی ہے۔حضرت نانا جان رضی اللہ عنہ کی طبیعت سخت تھی مگر ان کا دل رقیق تھا۔وہ بہت جلد غصہ میں آ جاتے اور معاً صاف دلی سے باتیں کرنے لگتے۔برخلاف اس کے میں نے دیکھا کہ حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ کی اولاد میں دل اور زبان دونوں میں نرمی اور رقت ہے۔میں نے کبھی ان میں سے کسی کو غصہ ہوتے نہیں دیکھا۔حضرت اُم المؤمنین کا تو رنگ ہی اور ہے۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب اور حضرت میر محمد الحق صاحب کو بھی ہمیشہ مسکراہٹ کو ان کے چہروں پر کھلتے دیکھا۔کلام میں ایک شیرینی اور محبت پائی جاتی ہے اور جب بھی کلام کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پوری توجہ اور دلچسپی سے اپنے مخاطب کے ساتھ ہم کلام ہیں حضرت اُم المؤمنین کی سیرت کے مائی امام بی بی کے بیان سے بعض اور پہلو نمایاں ہوئے ہیں کہ روزہ کی حالت میں آپ خاموش رہتی ہیں اور غریب اور مسکین لڑکیوں کے سر وغیرہ آپ دیکھنا اور صاف کرنا یہ بھی خدا تعالیٰ کی خوشنودی کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں اور دوسروں کی تربیت تا کہ کوئی ایسے لوگوں سے نفرت نہ کرے بلکہ کوشش کی جاوے کہ ان کی ہر طرح مدد کی جاوے اور گرے ہوؤں کو اُٹھایا جاوے۔متفرق خواتین کے تاثرات میں سے کچھ صحابیات کے علاوہ عصر خلافت میں ہر سال اور دوران سال میں جو خواتین دار الامان آتی رہتی