سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 415 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 415

415 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اب تو آپ کی صحت اچھی نہیں رہتی ہے تاہم اب تک آپ کا ایسا ہی عمل جاری ہے۔بیماری کی حالت میں آپ خاموش رہتی ہیں کوئی چڑ چڑا پن وغیرہ جو بیماری کی حالت میں عام طور پر پیدا ہو جاتا ہے بالکل نہیں صبر اور سکون کے ساتھ خاموش رہتی ہیں۔روزہ کی حالت میں بھی آپ کا معمول ہے کہ خاموش رہتی ہیں گویا آپ روزہ کی تکمیل میں خاموشی بھی ضروری سمجھتی ہیں۔خاموشی میں ذکر الہی کرتی رہتی ہیں۔تنہائی اور خلوت کو پسند کرتی ہیں۔نوکروں سے جو سلوک آپ کرتی ہیں وہ میں نے کسی گھر میں نہیں دیکھا۔میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی کو ڈانٹ ڈپٹ کی ہو یا حقارت سے اس کا نام لیا ہو۔میں نے اتنے لمبے عرصہ میں کبھی کسی نوکر پر ناراض ہوتے نہیں دیکھا کسی سے کچھ نقصان ہو جائے تو ہمیشہ درگز رفرمایا۔میں نے کسی کو جھڑ کی دیتے بھی نہیں دیکھا۔ہمیشہ غربیوں اور مسکینوں کی پرورش کی جن کا کوئی سہارا اور آسرا دنیا میں نہ تھا۔آپ کے ہاں اس کو آسرامل جاتا ہے۔صدقہ خیرات دینے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ یہ سلسلہ تو جاری ہی رہتا ہے اور کسی کو پتہ بھی نہیں لگتا اور آپ خود بھی اس کو مخفی رکھتی ہیں۔میں نے بعض ایسی غریب لڑکیوں کو دیکھا ہے کہ جن کو کوئی پاس نہ بیٹھنے دے مگر حضرت اُم المؤمنین نے ان کے کپڑوں کی بد بو وغیرہ کا خیال نہ کر کے آپ ان کے سروں کوصاف کیا۔حضرت اُم المؤمنین ہر اس چیز کو پسند کرتی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پسند تھی۔پھلوں میں آم، کیلا وغیرہ پسند کرتی ہیں۔مٹھائیوں میں برفی اور مرغ کے سالن کو بھی پسند فرماتی ہیں۔حضرت اُم المؤمنین کا معمول ہے کہ جو عورتیں آپ کے پاس آتی ہیں ان کو مناسب موقعہ نصائع بھی فرمایا کرتی ہیں اور اصل طریق تربیت کا آپ نے اپنا عمل اور نمونہ رکھا ہے تاہم عام طور پر یہ فرمایا کرتی ہیں کہ : جس کام کیلئے آئی ہو وہ بات کرو اور کوئی بات نہ کرو“ ہم نے کبھی حضرت اُم المؤمنین کو نہیں دیکھا کہ کسی بات پر بھی حضرت صاحب سے ناراض ہوئی ہوں۔حضرت صاحب کا ادب کرتیں اور آپ کو خوش رکھتیں۔ابتداء میں حضرت صاحب صرف تین روپے جیب خرچ دیا کرتے آپ نے کبھی نہیں کہا کہ یہ کم ہیں۔شکر گزاری سے لے لیتیں اور عورتوں کو