سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 402
402 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ میں تو اس لئے بلایا کرتی ہوں کہ تم لوگوں کو باہر نکلنے کا موقعہ مل جایا کرے۔اس دفعہ نہیں تو پھر سہی یہاں تو اکثر دفعہ جانے کا موقعہ ملتا ہے۔مگر میں تو تم سے بہت خوش ہوئی کہ تم نے اپنے میاں کی فرمانبرداری کی۔میں نے عرض کیا کہ میں تو بہت ڈرتی تھی کہ آپ ناراض ہوں گی۔مگر شیخ صاحب نے کہا کہ وہ ہرگز ناراض نہ ہوں گی۔اس پر فر مایا اس میں نا راضگی کی تو کوئی بات نہیں تھی۔نوٹ : یہ واقعہ حضرت ام المؤمنین کی سیرۃ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔اپنے شوہروں کی اطاعت اور خوشنودی کے خیال کو ضروری سمجھنے کی تعلیم عملی رنگ میں دیتا ہے کوئی اور خاتون ہوتی جس کو کسی قسم کا امتیاز حاصل ہوتا اور اس کی کوئی خادمہ یا خادم اس قسم کا جواب دیتا تو اس کے غصہ اور غضب سے بچنا مشکل تھا۔حضرت اُم المؤمنین تفریح کے لئے مستورات کو اس لئے ساتھ لے جاتی تھیں کہ ان میں مساوات کا رنگ پیدا ہو۔جُھوٹے امتیازات مٹ جاویں اور ان کو اپنے احکام پر بھی اپنے شوہروں کی اس مرضی کو مقدم کرنے کا سبق سکھائیں جو خدا اور رسول کے احکام کے تابع ہو۔(N) والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ جب ہم اپنا مکان بنا کر اس میں آچکے ہوئے تھے بھادوں کا مہینہ تھا۔حضرت اُم المؤمنین پھرتے پھراتے ہمارے گھر میں تشریف لے آئیں۔ہمارے گھر کے پیچھے ڈھاب بہت بڑی تھی اور اس میں خوب پانی بھرا ہوا تھا اسے دیکھ کر فرمایا۔بچو! مجھے تیر کر دکھاؤ میرا لڑکا ابراہیم علی عرفانی اور حضرت بھائی عبدالرحمن قادیانی کا بچہ عزیزی عبد القادر دونوں ڈھاب میں گود پڑے اور دو گھنٹہ تک خوب تیرتے رہے اور حضرت اُم المؤمنین بہت خوش ہوئیں کہ ڈھاب کے پاس رہنے والوں کو تیر نا ضرور آنا چاہئے۔میں نے آپ کے اس ارشاد کوسن کر فوراً بستر وغیرہ بچھا دیا تا کہ آرام سے دیکھ لیں۔شیخ صاحب نے عرض کیا کہ حضور آج کھانا یہاں ہی کھا ئیں۔فرمایا کہ میں نے تو باغ سے ساگ منگوایا ہے وہ کھاؤں گی تب میں نے عرض کیا ساگ یہاں ہی منگوالیں وہ بھی کھا ئیں اور یہاں بھی کھا ئیں۔فرمایا اچھا میں کھاؤں گی مگر ایک شرط ہے جو تم کھاؤ وہی میں کھاؤں گی۔میں نے کہا اماں جان یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہم نمک مرچ سے کھا ئیں تو آپ بھی وہی کھا ئیں فرمایا ہاں ہاں میں بھی وہی کھاؤں گی۔غرض انہوں نے منظور فرمالیا۔میں جلد جلد کھانا تیار کرنے لگی اور آپ نے سیدہ ام ناصر