سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 403 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 403

403 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اور سیدہ اُم مظفر کو بھی بلا بھیجا۔ہمارے گھر میں بے انتہا خوشی تھی۔شیخ صاحب پھولے نہ سماتے تھے کہ حضرت ام المؤمنین ہمارے گھر میں مہمان ہیں۔کھانا کھا کر فرمایا بہو تم نے کھانے میں کیا ڈال دیا تھا ایسا لذیذ تھا کہ پیٹ کہتا بس کر منہ کہتا کھائے جا۔آپ کی عادت میں یہ داخل ہے کہ اگر کوئی چیز خراب بھی تیار ہوئی ہو تو بھی اس کی تعریف فرمایا کرتی ہیں۔نوٹ : اس واقعہ سے آپ کی سادہ زندگی اپنے روحانی بچوں کے گھروں میں محبت و اخلاص پیدا کرنا اور ان میں وقار کو لئے ہوئے بے تکلفی پیدا کرنا ظاہر ہوتا ہے۔آپ نے اپنی روحانی اولاد کے ہر فرد کے دل میں اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ آپ انہیں اپنی اولاد کی طرح ہی عزیز بجھتی ہیں اور مہمان نوازی کی ایسی تربیت دے رہی ہیں کہ غیر ضروری تکلفات کو مقدم نہ کر لیا جاوے۔رشتہ محبت کو مضبوط کر نے کیلئے اسی چیز کی ضرورت ہے۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ : (۵) ایک مرتبہ ہم حضرت ام المؤمنین کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں میاں محمود احمد (حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ) جو اس وقت چھوٹے بچے تھے ایک ربڑ کا سانپ لئے ہوئے آ گئے اور اسے چھوڑ دیا۔مارے دہشت کے میرا تو رنگ زرد ہو گیا اور میں کانپ گئی حضرت ام المؤمنین نے میری طرف دیکھا اور پھر میاں صاحب کو کہا میاں محمود ! یہ تمہارے استاد کی بیوی ہیں تم نے یہ کیا کیا۔میاں صاحب کہنے لگے اماں مجھ سے بھول ہو گئی۔پھر اماں جان نے مجھے دلاسہ دیا کہ بہو یہ تو ربڑ کا سانپ تھا۔نوٹ : یہ واقعہ حضرت امیر المومنین کی پاکیزہ فطرت کا بھی ایک مظاہرہ ہے کہ ایک معمولی سی بات پر بھی اپنی غلطی کا اقرار کر لیا اور کسی قسم کی بڑائی اور شان کے خلاف نہ سمجھا۔دوسری طرف حضرت ام المؤمنین کی تربیت اولاد کا بھی بہترین سبق ہے کہ استاد اور اس کی بیوی کا ادب کس طرح ملحوظ رکھنا چاہئے۔حضرت والد صاحب قبلہ کے ایک واقعہ کو بیان کئے بغیر میں آگے نہیں جا سکتا میرے دل میں اس کے لئے ایک محبت آمیز اور ایمان افزا جوش ہے۔حضرت والد صاحب قبلہ نے متعدد مرتبہ با چشم نم یہ واقعہ مجھے سنایا کہ جب حضرت امیر المومنین کی