سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 397 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 397

397 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مہمان نوازی اور غربا پروری حضرت مخدومہ معظمہ حضرت اماں جان کی یہ ایک خاص صفت ہے کہ مہمان نوازی اور غربا پروری میں نہایت ہی بہرہ رکھتی ہیں۔اگر گھر میں ہوں کھانے کے وقت کوئی بھی عورت آجائے ان کو کچھ نہ کچھ کھلا کر تسلی پاتی ہیں۔غربا پروری کا یہ وصف ہے کہ غریب عورتوں کے گھروں پر جا کر ان کا دکھ دردسننا، ہمدردی کرنا کسی کے درد و غم میں شریک ہونا بیماروں کی مزاج پرسی اور ان کو دوا اور دعا سے مدد پہنچانا آپ کی عادت ہے۔آپ کی طبیعت خوش طبعی کو پسند کرتی ہے میں اس بات کی ہرگز قائل نہیں کہ نیک وسعید فطرت انسان کبھی اگر ہنستے ہی ہیں تب وہ صوفی اور مومن اور سنجیدہ معقول وغیرہ ہوتا ہے نہ یہ شرعا یہ کوئی عیب کی بات ہے کہ مذاق اور ہنسی کی بجائے ہر وقت رونی صورت ہی بنائے رکھے یا رعب جتانے کے لئے ہر وقت قہری وغضب آلود چہرہ بنائے رکھے بلکہ خوش اخلاقی اور نرمی بشاشت اور مسکراہٹ والا چہرہ جنتی اور فردوسی نشان ہوتا ہے۔اسی طرح حضرت اُم المؤمنین اکثر وقت خوش اور بشاش رہتی ہیں بلکہ غمزدہ اور افسردہ انسان کو آپ کی مجلس میں جا کر یا آپ سے مل کر ایسی روحانی مسرت حاصل ہوتی ہے کہ سارے رنج و غم کے دلدر دور ہو جاتے ہیں آپ کی مہربانی اور نرمی کی گفتگو ہمدردی و غمگساری سے نصیحت کرنا سارے الم دور کر دیتی ہے اس کا لطف وہی لوگ جانتے ہیں جن کو کبھی حضرت موصوفہ کی بے تکلف مجلس کا اتفاق ہوا۔اس پر مجھے یہ واقعہ یاد آ گیا کہ ایک دفعہ آپ کے صحن میں بہت سی عورتوں کا مجمع تھا۔شائد کسی کے بیٹے یا اولاد کے ماتم کے متعلق عورتیں باتیں کرتی جاتی تھیں کہ آپ کی خادمہ قدیم مائی فجو مرحومہ ( اللہ تعالیٰ اسے بخش دے) آگئی اس کا کوئی بیٹا نہ تھا۔بچاری کی دولڑ کیاں ہی تھیں تو کسی عورت نے اسے کہہ دیا دیکھو اس بیچاری کا بھی کوئی نام لیوا نہ ہوگا۔لڑکا کوئی نہیں ہے وہ نہایت غمزدہ ہوئی اور گویا رونے لگی اتنے میں اندر سے حضرت ام المؤمنین تشریف لائیں اور دریافت فرمایا کیا ہوا۔فضل بی بی کیوں رونا منہ بنایا ہے۔اس نے بتایا کہ بیوی جی میرالڑ کا کوئی نہیں۔کون میرا وارث ہوگا اور قبر پر فاتحہ پڑھے گا۔آپ نے فرمایا کون کہتا ہے تیرا بیٹا نہیں۔اس نے اشارہ کیا کہ یہ سب کہتی ہیں آپ نے بلند آواز سے فرمایا۔مائی فجو کا ایسا چاند