سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 384 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 384

384 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت حافظ معین الدین صاحب کے تاثرات حضرت حافظ معین الدین حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کے خدام قدیم میں سے تھے وہ ایک عارف و عابد زاہد صحابی تھے حضرت کی پاک صحبت نے انہیں خاک سے اٹھا کر آسمان پر پہنچا دیا تھا ان کی سیرت وسوانح کا الحکم امین ہے۔اللہ تعالیٰ چاہے تو کتابی صورت میں بھی وہ حالات آجائیں گے وہ آج جنت میں اپنے آقا کے حضور ہیں مگر میں ان کی یاد کو تازہ اور ذکر کو زندہ رکھنے کے لئے ان کے تأثرات کا اظہارا اپنا فرض سمجھتا ہوں یہ تأثرات میں نے ان کی اس سیرت سے اخذ کئے ہیں جو حضرت قبلہ عرفانی کبیر نے الحکم میں لکھی تھی۔حضرت حافظ صاحب حضرت اُم المؤمنین کا ذکر ہمیشہ ماں جی کے نام سے کیا کرتے تھے اور جب کبھی وہ حضرت والد صاحب کے پاس آتے تو حضرت عرفانی کبیر اپنے ذوق کے موافق ان سے پُرانے حالات اور حضرت اقدس کی سیرت کے متعلق تذکرے سنتے رہتے اور بعض اوقات یہ سلسلہ بڑ المبا ہوتا۔حضرت حافظ صاحب فرمایا کرتے کہ میں تو ایک غریب بے کس اور معذور آدمی تھا حضرت صاحب نے مجھے اپنے دامن شفقت میں جگہ دی اور میری پرورش فرماتے رہے ہیں اولاً اپنی کمزوری اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کی عظمت اور شوکت کے تصور سے ڈرا کرتا تو حضرت صاحب ہمیشہ فرماتے کہ حافظ ڈرا نہ کر سب برابر ہی ہوتے ہیں حافظ صاحب جب حضرت ام المؤمنین کے احسانات کا ذکر کرتے تو فرماتے کہ ماں جی میرا بہت خیال رکھتی ہیں۔کبھی کبھی میرے لئے حلوہ یا کوئی اور چیز اچھی تیار کر کے خاص طور پر بھجوا دیا کرتی ہیں اور ماں جی کا یہ معمول ہے کوئی ہفتہ خالی نہیں جاتا کہ اسی قسم کا سلوک میرے ساتھ نہ فرماتی ہوں اور اس کے علاوہ مجھے کبھی کوئی ضرورت ہوتی ہے تو میں مانگ لیتا ہوں مگر ایسی نوبت بہت کم آتی ہے حضرت ماں جی خود خیال رکھتی ہیں۔جب وہ یہ ذکر کرتے تو ان کے قلب میں رقت پیدا ہو جاتی اور اس سلسلہ میں اپنے ماں باپ کا بھی مقابلہ کرتے اور کہتے کہ ایسے احسانات تو والدین سے بھی میں نے نہیں دیکھے۔آخر عمر میں حضرت اُم المؤمنین نے خاص طور پر اپنا ایک مکان ان کے رہنے کو دیدیا تھا جہاں وہ اپنی وفات تک رہے اور حضرت ام المؤمنین ان کی ضروریات کا احساس رکھتی رہیں اور حافظ صاحب