سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 379
379 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خدا خوش ہو گیا اس سے بھی حضرت ام المؤمنین کے مقام کا پتہ لگتا ہے مگر جب آپ نے اپنے مولیٰ کی خوشنودی کا پروانہ سنا تو فرمایا۔مجھے اس الہام سے اس قدر خوشی ہوئی ہے کہ اگر دو ہزار مبارک احمد بھی مرجا تا تو میں پرواہ نہ کرتی۔یہ معمولی مقام نہیں اور نہ ہر شخص کو میسر آ سکتا ہے۔ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُوتِيهِ مَن يَشَاءُ ۶۔آپ کا تقویٰ اور طہارت تقویٰ اور طہارت کی جو اعلیٰ شان آپ کے کردار میں پائی جاتی ہے۔وہ اُسوہ حسنہ ہے ہم سب چھوٹوں بڑوں کے لئے موجود اور آنے والی نسلوں کے لئے۔تقویٰ کی باریک سے باریک راہوں پر آپ چلتی ہیں اور آپ کی اسی شان کیلئے خدا تعالیٰ کی وحی میں ایک مرتبہ نہیں متعدد مرتبہ ذکر آیا کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے گند سے آپ کو پاک ٹھہراتا اور آپ کی تطہیر کے سامان فرماتا ہے۔ہمارے شیعہ بھائی آیت تطہیر کو اہل بیت کی پاکیزہ فطرتی پر بطور دلیل پیش کیا کرتے ہیں۔لاریب میں تو اگر وہ آیت نازل نہ ہوتی تب بھی اہل بیت کی تطہیر کا عقیدہ رکھتا ہوں باوجود یکہ میں شیعہ نہیں ہوں یہاں تو متعدد مرتبہ حضرت رب رحیم نے اس آیت کو نازل فرمایا۔اللہ الحمد ! ے۔مجھ پر عنایات میں اس مختصر بیان کے سلسلہ میں ان عنایات اور غریب نوازیوں کا ایک دھندلا سا خاکہ پیش کرنے کی سعادت سے محروم نہیں رہنا چاہتا۔حضرت اُم المؤمنین نے جب سے میں قادیان میں مستقل طور پر آ گیا ہر موقعہ پر مجھے اور میرے اہل و عیال کو نوازا ہر تقریب رنج میں ہمارے لئے آپ کا وجود تسلی بخش اور ذریعہ اطمینان ہوا اور ہر خوشی کی تقریب میں آپ نے ہماری خوشی کو اپنی خوشی یقین کیا۔میری بیوی کو شروع سے بہو کا خطاب دیا اور اس ذرہ بے مقدار کو شیخ صاحب کہ کر پکارا۔آج اس پر پچاس کے قریب برس کا زمانہ آتا ہے آپ کی