سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 378
378 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سعادت پاتا تو اس کے گھر کے تمام چھوٹے بڑوں کا تفصیل سے حال پوچھنا آپ کے دائرہ عمل میں داخل ہے۔بعض صحابہ کو میں نے دیکھا کہ وہ بے تکلف کبھی کبھی کوئی فرمائش کھانے وغیرہ کی کر دیتے حضرت ام المؤمنین سن کر بہت خوش ہوتیں اور خاص اہتمام سے اس کو پورا کرتیں۔اس قسم کے احباب میں سے ایک میرے نہایت ہی مخلص مخدوم بھائی حضرت منشی ظفر احمد صاحب رضی اللہ عنہ تھے۔حضرت ام المؤمنین کا سیرت کا نقشہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت میں نمایاں ہے۔۵- رضا بالقضاء حضرت اُم المؤمنین کی زندگی میدان کربلا کی زندگی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن مشکلات اور مصائب میں سے ماموریت کے بعد گزرے ہیں۔اس کا نقشہ تو خود آپ کے صد حسین است در گریبائم والے شعر میں موجود ہے آپ کی زندگی انبیاء کے ابتلاؤں کی زندگی تھی اور ان ابتلاؤں میں حضرت اُم المؤمنین برابر کی شریک تھیں خدا تعالیٰ کی بشارتیں تو سہارا اور ذریعہ تسلی تھیں مگر جیسے حضرت خدیجہ الکبریٰ علیہا السلام نے ابتدائی عہد میں آنحضرت ﷺ کوتسلی دلائی ٹھیک اسی طرح پر حضرت اُم المؤمنین حضرت مسیح موعود کے لئے مایہ راحت و اطمینان ہوتی تھیں۔بڑے بڑے معرکے آپ کی آنکھوں کے سامنے پیش آئے مگر حضرت اُم المؤمنین ان تمام حالات میں ایک قلب مطمئنہ کے ساتھ طوفان میں چٹان کی طرح رہیں۔بیرونی حوادث اور زلازل کے علاوہ گھر میں بعض واقعات اموات کے ہوئے اور وہ معمولی نہ تھے۔ہر ایسی موت پر مخالفین کی طرف سے گندے اور دل آزار اشتہارات نکلتے۔مگر آپ کے پہلو میں وہ دل تھا جو خدا تعالیٰ کی مقادیر سے ہمیشہ ہم آہنگ رہا اور خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم کیا آپ کے رضا با لقضا کے مقام کی بھی خدا تعالیٰ نے داد دی۔چنانچہ صاحبزادہ مبارک احمد صاحب اللَّهُمَّ اجْعَلُهُ لَنَا فَرَطًا وشَافِعًا کی وفات پر جو نمونہ صبر اور رضا بالقضا کا آپ نے دکھایا اسے خدا تعالیٰ نے اتنا پسند فرمایا کہ اپنی پسندیدگی کا اظہار اس وحی میں کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اس واقعہ کے بعد نازل ہوئی۔